ترکیہ اور شام میں آنے والے صدی کے ہولناک ترین زلزلے میں شام میں جان بحق ہونے والے افراد کی تعداد 3 ہزار 384 تک پہنچ گئی ہے۔
سیریئن ہیومن رائٹس نیٹ ورک (ایس این ایچ آر)، سول ڈیفنس (وائٹ ہیلمٹس)، مقامی حکام، صحت کی تنظیموں اور مقامی ذرائع سے مرتب کی گئی معلومات کے مطابق شام کے ادلب اور فرات شیلڈ اور شاخِ زیتون آپریشن والے علاقوں میں کم از کم 2 ہزار 37 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔
اسد حکومت کی خبر رساں ایجنسی سانا کی خبر کے مطابق حلب، لاذقیہ، حما اور طرطوس صوبوں میں حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں 1347 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 2 ہزار 295 زخمی ہوئے۔
شمالی شام میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں میں کئی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں یا ان کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
شامی نیشنل آرمی (SMO) کے ارکان بھی حزب اختلاف کے زیر کنٹرول علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
زلزلے سے بچ جانے والے ہزاروں افراد جو بے گھڑ ہوچکے ہیں وہ رات سڑکوں، مساجد یا عارضی خیموں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔
شمالی شام کے علاقوں میں مقامی غیر سرکاری تنظیمیں "فوری مدد” کا مطالبہ کر رہی ہیں۔