لاہور: پنجاب میں انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کے لیے گورنر اور الیکشن کمیشن حکام کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا جب کہ بلیغ الرحمٰن نے صوبے میں الیکشن کرانے کے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی تشریح اور وضاحت کے لیے درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمٰن نے گورنر ہاؤس میں لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی ٹیم کے ساتھ مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں کچھ امور اور گورنر کے مشاورتی کردار کے کچھ پہلو وضاحت اور تشریح طلب ہیں جس کے لیے قانونی اور آئینی ماہرین سے مشاورت کے بعد عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
اجلاس میں سیکریٹری الیکشن کمیشن پاکستان عمر حمید خان، چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان، پرنسپل سیکریٹری ٹو گورنر پنجاب بیرسٹر نبیل اعوان، اسپیشل سیکریٹری ٹو گورنر پنجاب عمر سعید، اسپیشل سیکریٹری ٹو الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے شرکت کی۔
اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل لا الیکشن کمیشن محمد ارشد خان، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل الیکشن کمیشن سید ندیم حیدر ، ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈینٹر الیکشن کمیشن محمد ناصر خان، ڈائریکٹر عبدالحمید، ڈپٹی ڈائریکٹر ہدا علی اور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان شریک تھے۔
اجلاس کے بعد سیکریٹری الیکشن کمیشن نے گفتگو میں بتایا کہ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کی حوالے سے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کے لیے گورنر بلیغ الرحمٰن سے وقت طلب کیا تھا، یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے حکم پر بات چیت کے لیے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں طلب اجلاس میں کیا گیا تھا۔
