ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

طالبان کو جان لینا چاہیے کہ دنیا سے معمول کے تعلقات کے لیے انہیں کرنا کیا ہے: امریکی وزیرِ خارجہ

امریکی وزیرِ خارجہ انٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکہ اور وسط ایشیائی ممالک کے درمیان طویل عرصے کے تعلقات ہیں جو ان ممالک کی آزادی کے بعد سے قائم ہیں اور ان تعلقات کی بنیاد ان ممالک کی آزادی، خود مختاری اور ان کی باہمی علاقائی یک جہتی کے لیے امریکہ کی پر زور حمایت کے ساتھ رکھی گئی۔

بلنکن نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز تاشقند ازبکستان کے ایک ویب پورٹل کن ڈاٹ اوز(kun.uz) کے صحافی دونیئر تخسینوف کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔


طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخطوں کے بعد مصافحہ کر رہے ہیں۔ 29 فروری 2020

طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخطوں کے بعد مصافحہ کر رہے ہیں۔ 29 فروری 2020

انہوں نے افغانستان میں سیکیورٹی کے مسائل اور طالبان کی موجودہ حکومت کے ساتھ کسی رابطے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کے ساتھ امریکہ کا رابطہ ہے اور یہ رابطہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ہے۔ اور دیگر ممالک بھی ان سے رابطے میں رہتے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا،’’افغانستان پر قبضے کے وقت دیگر باتوں کے علاوہ طالبان نے اس بارے میں کچھ وعدے کیے تھے کہ وہ کس طرح ملک پر حکومت کریں گے اور دوسرے ممالک کے ساتھ کس طرح رابطے رکھیں گے۔

افغان خواتین کے حقوق کے لیے واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرہ





please wait



No media source currently available

بلنکن نے کہا کہ طالبان کی حکومت کے آغاز ہی میں دنیا بھر کے ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد میں واضح کیا کہ وہ طالبان سے کیا توقعات رکھتے ہیں، جن میں انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ، ایک جامع طرز حکمرانی جس میں صرف طالبان نہ ہوں، لوگوں کے لیے نقل و حرکت کی آزادی اور انہیں افغانستان سے اپنی مرضی کے مطابق جانے اور آنے کی اجازت اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کارروائی شامل ہیں، چاہے وہ جہاں بھی ہو اور جس کی جڑیں افغانستان میں ہوں۔

لیکن امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا ،’’بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد سے ہم نے جو دیکھا وہ یہ کہ طالبان اس سے بالکل مخالف سمت میں جا رہے ہیں۔کوئی وعدہ پورا نہیں کر رہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان کو انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کرنے والوں میں پہلے نمبر پر رہا ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ لوگ تکلیف اٹھائیں۔ جب کہ وہ تکلیف میں ہیں۔


فائل فوٹو

فائل فوٹو

انہوں نے کہا،’’ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ لوگوں کو خوراک، دوائیں اور بنیادی ضرورت کی اشیا مہیا ہوں۔لیکن طالبان نے انسانی ضرورت کی امداد کی ترسیل میں خواتین کی شمولیت پر پابندی عائد کر کے اسے مزید مشکل بنا دیا ہے اور ان تمام امور میں حالات بد تر ہی ہوئے ہیں، بہتر نہیں ہوئے۔‘‘

انٹنی بلنکن نے واضح کیا کہ اگر طالبان امریکہ سمیت دیگر ملکوں کے ساتھ معمول کے تعلقات کی توقع رکھتے ہیں تو انہیں جان لینا چاہئیے کہ انہیں کرنا کیا ہے۔ انہیں اچھی طرح علم ہے کہ دنیا ان سے کیا چاہتی ہے۔

افغانستان کے بارے میں ازبکستان کے موقف سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’’ ہم ازبکستان جیسے ممالک کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ رابطے میں ان پر واضح کیا کہ دیگر ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات کے لیے ان سے کیا توقعات ہیں۔‘‘

(وی او اے)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں