امریکی ڈرون طیارہ گِرنے کے بعد بحیرہ اسود میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ یورپی فورس کمانڈ آفس کے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کے دو Su-27 طیاروں نے بحیرہ اسود میں امریکہ کے MQ-9 ڈرون طیارے کی پرواز میں مداخلت کی اور روسی طیاروں میں سے ایک کے ڈرون سے ٹکرانے کے بعد ڈرون بین الاقوامی پانیوں میں گِر گیا ہے”۔
بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ "روسی طیاروں نے غیرپیشہ وارانہ شکل میں مانیٹرنگ پرواز کرتے ڈرون کا راستہ کاٹا ہے”۔
تاہم روس نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی ڈرون کے ساتھ ٹکراو نہیں ہوا۔ ڈرون تیز پلٹ جھپٹ کے باعث قابو سے باہر ہو کر سمندر میں جا گِرا ہے۔
ڈرون بحران کی وجہ سے امریکہ نے واشنگٹن میں روسی سفیر اناتولی آنتونوف کو وزارت خارجہ میں طلب کیا اور دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کے مابین ٹیلی فونک ملاقات میں بھی موضوع کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ملاقات میں روس کے وزیر دفاع سرگے شوئے گو نے اپنے امریکی ہم منصب لائڈ آسٹن سے کہا ہے کہ واقعے کا سبب واشنگٹن کی روس کے خلاف بڑھتی ہوئی جاسوسی کاروائیاں ہیں۔
روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے بھی کہا ہے کہ روس نے بحیرہ اسود کے بعض علاقوں میں پرواز کی پابندی لگا رکھی ہے اور امریکہ اس پابندی کو نظر انداز کر رہا ہے۔
لاوروف نے کہا ہے کہ امریکی فریقی مسلسل اشتعال انگیزی کی کوششوں میں ہے۔ دنیا کی دو بڑی ترین جوہری طاقتوں میں جھڑپ کا باعث بن سکنے والا کوئی بھی واقعہ ہمیشہ سنجیدہ خطرات کا سبب بن سکتا ہے۔
امریکہ مسلح افواج کے سربراہ جنرل مارک مِلی نے بھی کہا ہے کہ روسی پائلٹ کی امریکی ڈرون کے خلاف جارحیت ویڈیو مناظر میں واضح دِکھائی دے رہی ہے۔
مِلی نے کہا ہے کہ ہم ڈرون کا ملبہ سمندر سے نکالنے یا نہ نکالنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکہ کا علاقے میں کوئی بحری جہاز موجود نہیں ہے لیکن اس کے اتحاد موجود ہیں۔
مِلی نے روس مسلح افواج کے سربراہ ویلری گراسیموف کے ساتھ بھی ٹیلی فونک ملاقات کی ہے۔