پاکستان بھر میں آج عیدالفطر مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
اس موقع پر عید کی نماز کے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے جس میں ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں جب کہ اجتماعات کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
علمائے کرام نے اپنے خطبات میں عیدالفطر کی اہمیت اور فلسفہ پر روشنی ڈالی اور ملک کی سلامتی، ترقی و خوشحالی اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
وفاقی دارالحکومت میں عید کا مرکزی اجتماع فیصل مسجد میں ہوا جہاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے علاوہ اعلیٰ سرکاری افسران اور مسلم ممالک کے سفراء نے نماز عید ادا کی۔
اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قوم کو عیدالفطر کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ دعاگو ہوں عید ہمارے لیے امن و سلامتی اور خوشیوں کے ایام لائے، رمضان المبارک ہمارے اندر تقویٰ، پرہیزگاری اور دوسروں کی تکلیف کا احساس پیدا کرتا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ اس وقت ملک کو مشکل سیاسی اور اقتصادی حالات کا سامنا ہے، ہم سب اپنے ملک کے لیے درد محسوس کر رہے ہیں، قوم کی توجہ معاف کرنے، رحم فرمانے والے رب کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرنے، درگزر کرنے کا حکم دیتا ہے، آج ہم لوگوں کو معاف کرنے کو تیار نہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ عیدالفطر کے پرمسرت موقع پر پاکستان سمیت تمام عالم اسلام کو مبارک پیش کرتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ یہ مبارک گھڑی ہم سب کی زندگی میں ڈھیروں مسرتیں اور خوشیاں لے کر آئے۔
بھارت میں بھی مسلمان آج عید الفطر منا رہے ہیں۔
اس موقع پر بھارت کے مختلف شہروں میں مسلمانوں نے نمازِ عید ادا کی اور خصوصی دعائیں مانگیں۔
دلی کی جامع مسجد میں نمازِ عید کا سب سے بڑا اجتماع ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
دلی کی جامع مسجد میں نمازِ عید کے بعد امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔