سید سعادت اللہ حسینی 2027تک کے لیے ایک بار پھر جماعت اسلامی ہند کے امیر منتخب ہوگئے، واضح رہے کہ مرکز جماعت اسلامی ہند دہلی میں مجلس نمائندگان کا اجلاس 26اپریل سے جاری ہے اور مجلس نمائندگان کے ارکان ہی امیر جماعت کا انتخاب کرتے ہیں ۔گذشتہ میقات بھی سید سعادت اللہ حسینی نے امیر جماعت کے فرائض انجام دیئے تھے سید سعادت اللہ حسینی7 جون 1973 ء کو ناندیڑ، مہاراشٹرمیں پیدا ہوے۔ گذشتہ میقات میں موصوف جماعت اسلامی ہند کےنائب امیراورمرکزی مشاورتی کونسل کے رکن رہے. وہ زمانہ طالب علمی میں بھارت کی مشہور ومعروف اسلامی طلبہ تنظیم(ایس آئی او ) کے کل ہند صدر (1999تا2003) رہے۔
سعادت اللہ حسینی نے ناندیڑ شہر میں تعلیم حاصل کی، جہاں انہوں نے الیکٹرانکس اور ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ میں گریجویشن مکمل کیا. اپنے طالب علم کے دنوں کے دوران وہ ہندوستانی طلباء کی اسلامی تنظیم کے ساتھ منسلک رہے اور اس کے کل ہند صدر کے طور پر مسلسل (1999- 2003 تک خدمات انجام دی۔سعادت حسینی جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوری کے سب سےکم عمر رکن تھے۔ اور آپ حیدرآباد، بنگلور،دہلی اور علی گڑھ میں بہت سے سماجی اور تعلیمی اداروں کے بورڈ میں اہم خدمات انجام دے رہے تھے۔
آپ 12 سے زائد کتابوں کے مصنف ہونے کے علاوہ اردو و انگریزی میں 200 سے زائد اہم عناوین پر مضامین لکھ چکے ہیں۔
علاوہ ازیں آپ مختلف ذمہ داریوں سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں نائب امیر جماعت اسلام ہند، مرکزی مشاورتی کونسل جماعت اسلامی ہند ،رکن ریاستی مشاورتی کونسل جماعت الاسلام ہند تلنگانہ اور اڑیسہ،رکن امن و انصاف کے لئے موومنٹ (ایم جے پی)، آندھرا پردیش ،سابق قومی صدر طلباء اسلامی تنظیم ،چیئرمین آل انڈیا ٹیلنٹ سرچ و پروموشن ٹرسٹ،وائس چیئرمین الہمہ فاؤنڈیشن، حیدرآباد، رکن ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن، نئی دہلی،رکن انسائٹ ایجوکیشن سوسائٹی، حیدرآباد، نئی دہلی تعلیمی، رکن ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ، ٹرسٹی اسلامی اکیڈمی ٹرسٹ، نئی دہلی ودیگر سماجی، ملی اور تعلیمی اداروں سے وابستگی رہی ہے۔