اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی نے سی ڈی اے کی حدود میں ایم این ایز،وزرا،ججز،جرنیلوں کو ملنے والے پلاٹس کی تفصیلات دوبارہ طلب کر لی ہیں۔
چیئرمین پی اے سی نورعالم خان کا کہنا تھا کہ ہم نے سی ڈی اے سے ایم این اے، جج، جرنیل، بیوروکریٹ کو الاٹ پلاٹوں کی رپورٹ مانگی تھی وہ رپورٹ ابھی تک نہیں ملی جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے کسی کو پلاٹ الاٹ نہیں کرتا یہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوٴسنگ سوسائٹی کرتی ہے۔ پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی نے چین کی جانب سے گوادر کو فراہم کردہ سولر پینلز کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔
پارلیمنٹ کی پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے معاملے تبادلہ خیال کے دوران چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ ہم نے آپ کو تجاوزات کے خلاف آپریشن کا کہا تھاآپ کے لوگوں نے دوبارہ پیسے لے کر فٹ پاتھ پر کرسیاں لگوانا شروع کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ آپکی سوسائٹیز لوگوں سے پیسے زیادہ وصول کر رہی ہیں لوگوں کو قبضہ دینے کے لیے مزید پیسے مانگے جا رہے ہیں جس پر چیئرمین سی ڈی اے نور الامین مینگل نے کہ اکہ یہ کرسیاں نئی لگیں ہیں،ہم نے جو سامان اٹھایا وہ ہم نے واپس نہیں کیا جس کے جواب میں نور عالم خان نے کہا کہ آپ اشرافیہ پر بھی ہاتھ ڈالیں، صرف غریب کی ریڑھی پر توجہ مرکوز نہ کریں۔
اراکین کمیٹی نے کہا کہ ایف سیون میں تجاوزات مافیا نے فیملیز پر تشدد بھی کیا جس پر چیئرمین سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی تک وہ دکانیں سیل کی ہوئی ہیں۔ جواب میں چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ آپ ایلیٹ کلاس میں سب سے پہلے جائیں ہم نے سی ڈی اے سے ایم این اے، جج، جرنیل، بیوروکریٹ کو الاٹ پلاٹوں کی رپورٹ مانگی تھی وہ رپورٹ ابھی تک نہیں ملی۔
چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے کسی کو پلاٹ الاٹ نہیں کرتا یہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوٴسنگ سوسائٹی کرتی ہے۔