جی 7 کے سربراہان نے جاپان میں ہونے والے اجلاس میں روس، ایران، چین اور شمالی کوریا سے جوہری کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
ہیروشیما شہر میں منعقدہ G7 سربراہی اجلاس کے پہلے دن، رہنماؤں نے "جوہری تخفیف اسلحہ پر ہیروشیما وژن” کے عنوان سے ایک بیان جاری کیا۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ اجلاس ہیروشیما میں ہوا ہےجہاں 1945 میں ایٹم بم گرایا گیا تھا، یہاں پر منعقد کرنے کا مقصد عالمی سطح پر اس معاملے پر توجہ مبذول کرانا ہے۔
دنیا میں 77 سال تک جوہری ہتھیاروں کے استعمال نہ کرنے کی اہمیت پر زور دینے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ "روس کی ہتھیاروں کے کنٹرول کے نظام پر کاری ضرب لگانے والی کو غیر ذمہ دارانہ جوہری بیان بازی اور بیلاروس میں جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کا ارادہ خطرناک اور ناقابل قبول ہے۔”
بیان میں روس سے جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق بین الاقوامی وعدوں کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا، اس میں مزید کہا گیا کہ "سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے عالمی جوہری ہتھیاروں میں ہونے والی مجموعی کمی کو برقرار رہنا چاہیے اور اس معاملے میں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔”
"ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر دنیا کا حصول جوہری تخفیف اسلحہ کے بغیر ناممکن ” ہونے پر مبنی بیان میں روس سے نیو اسٹارٹ معاہدے کی طرف واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بیان میں روس، ایران، چین اور شمالی کوریا سے جوہری کشیدگی کو کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا گیا: ” کوئی بھی ملک جوہری ہتھیاروں کا تجربہ نہ کرے اور نہ ہی کوئی دوسرا جوہری دھماکہ کرے، ہم اس طرح کی کسی بھی دھمکی کی مذمت کرتے ہیں، اور ہم جامع جوہری تجربات پر پابندی معاہدے کے فی الفور نفاذ کے ایک ہنگامی مسئلہ ہونے پر ایک بار پھر زور دیتے ہیں۔