ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارتی پارلیمان کی نئی عمارت کا افتتاح، دہلی میں احتجاج کرنے والے پہلوان گرفتار

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی پولیس نے ‘ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا’ کے صدر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمان برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف دھرنے پر بیٹھے سرکردہ پہلوانوں کو اتوار کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے جنتر منتر پر پہلوانوں کے ٹینٹ بھی ہٹا دیے ہیں جب کہ ان کے بیٹھنے کی جگہ کو خالی کرا لیا ہے۔

اولمپک اور کامن ویلتھ گیمز میں تمغے جیتنے والی خاتون پہلوانوں سمیت کئی پہلوان جن میں ایک نابالغ خاتون بھی شامل ہیں، برج بھوشن پر جنسی استحصال و ہراسانی کا الزام لگا رہے ہیں۔

یہ پہلوان گزشتہ ماہ 23 اپریل سے دھرنے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے برج بھوشن شرن کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے اور وہ ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوپہر سے قبل پولیس کارروائی اس وقت ہوئی جب وہاں سے دو کلومیٹر کی مسافت پر وزیرِ اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کر رہے تھے۔

پہلوانوں نے اپنے مطالبے پر زور دینے کے لیے پارلیمنٹ کی نئی عمارت تک مارچ کرنے اور وہاں احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

حراست میں لیے جانے والوں میں ونیش پھوگاٹ، ساکشی ملک اور بجرنگ پونیا قابل ذکر ہیں۔پولیس نے موقع پر سیکیورٹی کا غیر معمولی انتظام کیا تھا اور دفعہ 144 بھی نافذ تھی۔ لیکن جب پہلوانوں نے آگے بڑھنے اور سیکیورٹی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا اور بسوں میں بٹھا کر لے گئی۔

دہلی کے اسپیشل کمشنر آف پولیس (لا اینڈ آرڈر) دیپیندر پاٹھک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے تمام مظاہرین کو حراست میں لے لیا اور انہیں بسوں میں بٹھا کرلے جایا گیا۔

ان کے مطابق ان لوگوں کو قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا اور تحقیقات کے بعد ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

پہلوان ساکشی ملک کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس نے پہلوانوں کو روک رہی ہے اسی دوران وہ زمین پر گر گئے۔ اس ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے کہ چیمپئنز کے ساتھ پولیس کا یہ برتاؤ ہے۔ دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے۔

پہلوان بجرنگ پونیا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کر رہے ہیں لیکن ملک میں جمہوریت کا قتل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے انہیں رہا کیا جائے۔

دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان خواتین پہلوانوں نے غیر ملکی سرزمین پر بھارت کا پرچم بلند کیا۔ لیکن آج ان بیٹیوں کو زمین پر گھسیٹا جا رہا ہے اور قومی پرچم کی توہین کی جا رہی ہے۔

ہریانہ اور اترپردیش کے کسانوں اور جاٹ برادری اور ان کی علاقائی پنچایتوں نے پہلوانوں کی حمایت میں دہلی پہنچنے کا اعلان کیا تھا۔

پولیس نے اترپردیش کے غازی پور بارڈر پر کسان رہنما راکیش ٹکیت اور ان کے حامیوں کو روک لیا تھا۔

اس پر ٹکیت کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہم لوگوں کو روک دیا۔ اس نے انہیں دہلی نہیں جانے دیا۔ وہ یہیں دھرنے پر بیٹھیں گے اور آگے کی حکمتِ عملی طے کریں گے۔

ادھر ہریانہ کی علاقائی (کھاپ) پنچایتوں کی جانب سے بھی بہت سے جاٹ اور کسان دہلی آرہے تھے جنہیں ٹکری بارڈر پر روکا گیا۔

اس سے قبل راکیش ٹکیت نے پولیس سے کہا تھا کہ وہ ان لوگوں کو ہراساں نہ کرے۔ اگر انہیں مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تو انہیں جہاں روکا گیا ہم وہیں بیٹھ جائیں گے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے پہلوانوں کو احتجاجی دھرنا یا مہا پنچایت کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ پولیس نے سینٹرل دہلی میں سیکیورٹی کا زبردست انتظام کیا تھا۔

جب کہ پہلوانوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے دہلی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ ٹریفک پولیس نے اتوار کو آمد و رفت کے لیے نئی ایڈوائزری جاری کی تھی جس میں لوگوں کو بعض راستوں پر نہ جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

ریسلنگ فیڈریشن کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ ایم پی نے پہلوانوں کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

پہلوانوں نے جب ان کا نارکو ٹیسٹ کرائے جانے کا مطالبہ کیا تو کئی روز کے بعد انہوں نے اس کے لیے رضامندی ظاہر کی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلوانوں کا بھی نارکو ٹیسٹ ہونا چاہیے۔

قبل ازیں جنوری میں پہلوانوں نے برج بھوشن شرن کے خلاف دھرنا دیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل کیے جانے کے بعد انہوں نے دھرنا ختم کر دیا تھا۔

اب ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش نہیں کی اور کمیٹی کے ذمہ داروں پر ان کو اعتماد نہیں ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں