ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

فرانس، اٹلی، جرمنی: KFOR پر حملوں کی مذّمت، تشدد سے پرہیز کیا جائے

فرانس نے کوسووا امن فورسKFOR کے فوجیوں پر حملے کی شدید مذّمت کی ہے۔

فرانس وزارت خارجہ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیرس، کوسووا کے شمال میں درپیش پڑ تشدد واقعات کی شدت سے مذّمت کرتا اور کوسووا حکومت سمیت تمام فریقین سے ضروری  تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانس، سرب مظاہرین اور کوسووا پولیس کے درمیان جھڑپوں کے خاتمے کے لئے متعین، کوسووا امن فورس KFOR کے ساتھ مکمل اتحاد کی حالت میں ہیں۔ حملوں میں KFOR کے بعض اہلکار زخمی بھی ہوئے  ہیں اور فرانس  ان حملوں کی پُرزور مذّمت کرتا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ کوسووا اور سرب باشندوں  کے درمیان امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے پریشتینا اور بلغراد کومفاہمانہ روّیے کے ساتھ مذاکراتی میز کی طرف واپس پلٹنا اور اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا چاہیے۔

بیان میں اس مسئلے کو یورپ کے لئے سلامتی کا مسئلہ قرار دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ علاقائی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو اس پر تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔

اٹلی کے وزیر اعظم جورجیا میلونی  نے بھی کوسووا امن فورس KFOR پر حملے کی شدید مذّمت کی اور پُر تشدد اقدامات کے فوری خاتمے کی اپیل کی ہے۔

یاد رہے کہ KFOR میں اطالوی فوجی بھی شامل ہیں۔

جرمنی وزارت خارجہ نے بھی KFOR پر حملے کی مذّمت کی اور تشدد کے فوری خاتمے کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ کوسووا کے شمال میں سربوں نے البانیہ کے نئے بلدیہ میئر کو نامنظور کر دیا اور اسے فرائض کا آغاز کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ سربوں نے  زویچان، زوبینپوتوک اور لیپوساوچ میں احتجاجی مظاہرے کئے جو  تشدد میں تبدیل ہو گئے تھے۔

مظاہرین نے بلدیہ کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر  کوسووا پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا تھا۔ مظاہرے میں بیسیوں مظاہرین زخمی ہو گئے تھے۔

مظاہرین نے نیٹو سے منسلک کوسووا امن فورس کے فوجیوں اور پولیس پر  حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں نیٹو امن فورس کے  25 فوجی زخمی ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ کوسووا نے 2008 میں یک طرفہ شکل میں اعلان آزادی کر دیا تھا تاہم سربیا  اسے تسلیم نہیں کرتا اور کوسووا کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ وقتاً فوقتاً سربیااور کوسووا ایک دوسرے کے مدّ مقابل آتے رہتے ہیں۔

2011 میں یورپی یونین کی ثالثی میں شروع ہونے والے بلغراد۔پریشتینا مذاکراتی مرحلے کے ساتھ، تعلقات کو معمول پر لانے اور آخر کار دونوں ملکوں کے ایک دوسرے کو تسلیم کر سکنے کے لئے، کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں