ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کوسووا امن فورس: زخمی فوجیوں کی تعداد  30 ہو گئی ہے

کوسووا کے شمال میں پُر تشدد واقعات کے دوران نیٹو کی کوسووا امن فورس KFOR کے زخمی فوجیوں کی تعداد  30 ہو گئی ہے۔

KFOR کے جاری کردہ بیان کے مطابق  کل زویچان بلدیہ کے سامنے کئے گئے احتجاجی مظاہرے میں سربوں اور KFOR یونٹوں کے درمیان جھڑپوں میں زخمی ہونے والے فوجیوں میں سے 11 اطالوی اور 19  ہنگیرین ہیں۔ تاہم  کل زخمیوں کی تعداد 25 بتائی گئی تھی۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق فوجیوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہیں اور  دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے متعدد فوجیوں کے  جسم پر جلنے کے زخم بھی دیکھے گئے ہیں۔ 3 ہنگیرین فوجی بارودی اسلحے سے زخمی ہوئے ہیں تاہم ان کی صحت کی صورتحال تسلی بخش ہے۔

KFORمشن کے کمانڈر جنرل اینجلو میشیل ریسٹوچا نے موضوع سے متعلق جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "KFORامن فورس کے فورس نے فریقین کے درمیان جھڑپوں کے سدّباب اور تناو میں اضافے کے خطرے کو کم سے کم رکھنے کے لئے کوسووا کے سربوں اور کوسووا کے البانیوں کی زندگیوں کو دُور رس خطرات سے بچایا ہے۔ دونوں فریقین کو بھی واقعات کی پوری ذمہ داری کو قبول کرنا چاہیے اور غلط بیانات  کے پیچھے چھُپنے کی بجائے تناو میں اضافے کی روک تھام کرنی چاہیے”۔

بیان میں زور دیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے تفویض کردہ اختیارات  کو پیش نظر رکھتے ہوئے KFOR ،کوسووا میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے، تمام ضروری اقدامات اختیار کرنا جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ کوسووا کے شمال میں سربوں نے البانیہ کے نئے بلدیہ میئر کو نامنظور کر دیا اور اسے فرائض کا آغاز کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ سربوں نے  زویچان، زوبینپوتوک اور لیپوساوچ میں احتجاجی مظاہرے کئے جو  تشدد میں تبدیل ہو گئے تھے۔

مظاہرین نے بلدیہ کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر  کوسووا پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا تھا۔ مظاہرے میں بیسیوں مظاہرین زخمی ہو گئے تھے۔

مظاہرین نے نیٹو سے منسلک کوسووا امن فورس کے فوجیوں اور پولیس پر  حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں نیٹو امن فورس کے  25 فوجی زخمی ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ کوسووا نے 2008 میں یک طرفہ شکل میں اعلان آزادی کر دیا تھا تاہم سربیا  اسے تسلیم نہیں کرتا اور کوسووا کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ وقتاً فوقتاً سربیااور کوسووا ایک دوسرے کے مدّ مقابل آتے رہتے ہیں۔

2011 میں یورپی یونین کی ثالثی میں شروع ہونے والے بلغراد۔پریشتینا مذاکراتی مرحلے کے ساتھ، تعلقات کو معمول پر لانے اور آخر کار دونوں ملکوں کے ایک دوسرے کو تسلیم کر سکنے کے لئے، کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں