ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ ہم نے مغرب کو ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لئے بلند درجے پر یورینیئم افزودہ کی ہے۔
ایران کے روزنامہ اطلاعات کےلئے انٹرویو میں اسلامی نے کہا ہے کہ ” ایران، بین الاقوامی ایٹمی انرجی ایجنسی UAEA کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم نے ایران قومی اسمبلی کے 2020 کے منظور کردہ قانون کی رُو سے بلند درجے پر یورینیئم افزودہ کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ ایک حکمت عملی ہے جس کا مقصد پابندیوں کو کالعدم کرنا ہے”۔
اسلامی نے کہا ہے کہ ” یورینیئم کی 60 فیصد تک افزودگی، ‘اسٹریٹجک حکمت عملی قانون’ کی ہم پر عائد کردہ ذمہ داری کا نتیجہ ہے۔ ایران کے یورینیئم افزودہ کرنے کے اقدام کو عسکری قرار دیا جا رہا ہے لیکن ہمارا اصل مقصد اسٹریٹجک حکمت عملی قانون کا اطلاق کرنا ہے۔ اس قانون کا مقصد مقابل فریقین کو ایران پر عائد کی گئی اقتصادی پابندیوں میں کمی کرنے پر قائل کرنا یا پھر مجبور کرنا ہے”۔
واضح رہے کہ ایران اور5+1 یعنی اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس اور جرمنی کے درمیان 2015 میں طے پانے والے جامع مشترکہ عملی پلان سمجھوتے پر دستخط کئے گئے۔ سمجھوتہ ایران کو 3،67 فیصد کی شرح سے یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔