لاہور: سابق وزیر اعلیٰ پنجاب و صدر پی ٹی آئی چودھری پرویز الہی ٰ کی مرکزی خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سابق وزیر اعلی کو جیل سے باہر آتے ہی گرفتار کر لیا تھا جب انسداد بدعنوانی کی عدالت نے انہیں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ایک اور مقدمے میں ضمانت دی تھی۔
ایف آئی اے کے مطابق چودھری پرویز الہی اور ان کے صاحبزداے پر پاناما پیپرز میں کیے گئے انکشافات کی بنیاد پر مبینہ منی لانڈرنگ کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ بیرون ملک کاروبار کے مالک ہیں،ان پر دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کا سہارا لینے کا الزام ہے، اس طرح پاناما کی پانچ فرموں میں اربوں روپے چھپائے گئے۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق الٰہی نے مبینہ طور پر پاناما میں کمپنیاں خریدیں اور غیر قانونی طور پر بیرون ملک رقم کی منتقلی کے شواہد ملے۔
پنجاب کے دارالحکومت کی ایک عدالت نے بدھ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں پی ٹی آئی کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی۔