ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

دو حلقوں سے زائد پر الیکشن لڑنے پر پابندی کی آئینی ترمیم منظور

اسلام آباد/پشاور: جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی کا پیش کردہ ترمیمی بل 2022 جس میں کسی بھی فرد کے لیے 2 قومی اسمبلی یا 2 صوبائی اسمبلیوں کی 2 نشستوں سے زیادہ نشستوں پر الیکشن لڑنے کی ممانعت کی تجویز دی گئی تھی، لا اینڈ جسٹس کی قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

مولانا عبدالاکبر چترالی نے بل کی حمایت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت قومی اسمبلی کے ہر حلقے پر انتخابی اخراجات کا تخمینہ 11 کروڑ روپے ہے۔ 2 حلقوں سے زیادہ پر الیکشن لڑنے سے قومی خزانے پر غیرضروری بوجھ پڑنے کے ساتھ کامیابی کے بعد اس حلقے کو چھوڑنے سے حلقے کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور ووٹروں کی توہین ہوتی ہے۔ چھوڑے ہوئے حلقوں پر دوبارہ الیکشن سے مزید قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔

اس سے قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین چودھری محمود بشیر ورک کی زیرصدار ت ہوا۔ جس میں جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولاناعبدالاکبر چترالی کی جانب سے پیش کی گئی آئین کے آرٹیکل223 میں ترمیم سے متعلق آئینی ترمیمی بل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

آئینی ترمیمی بل کے مطابق الیکشن کمیشن کا ایک حلقے پر 2 کروڑ 70 لاکھ تک خرچ آتا ہے۔ کاغذات کی چھپائی پر 70 لاکھ، ذرائع آمدورفت پر 30 لاکھ  جبکہ انتخابی عملہ کی ادائیگیوں پر 1کروڑ30لاکھ خرچ آتا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے آئینی ترمیم منظور کرلی جس کے مطابق کوئی بھی امیدوار بیک وقت زیادہ سے زیادہ 2 نشستوں پر الیکشن لڑنے کا اہل ہوگا جبکہ کسی بھی امیدوار کے 2 سے زیادہ حلقوں میں الیکشن لڑنے پر ممانعت ہوگی۔

آئینی ترمیم کے تحت امیدوار دونوں نشستوں پر منتخب ہونے کی صورت میں30دن کے اندر ایک نشست سے مستعفی ہونے کا پابند ہوگا، مذکورہ تیس دن کے گزرنے پر ماسوائے دوسری نشست کے پہلی نشست خالی  ہوگی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں