سوئیڈن میں شہری نے تورات اور انجیل نذرآتش کرکے احتجاج کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے ۔
شامی نژاد سوئیڈش شہری احمد الوش کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد قرآن پاک کی بےحرمتی کرنے والوں کو پیغام دینا تھا کہ آزادیٔ اظہار کی حدود ہوتی ہیں۔
سوئیڈش شہری نے کہا کہ احتجاج کا مقصد قرآن پاک کی بےحرمتی کرنے کے خلاف آواز اٹھانا تھا اور قرآن پاک کی بےحرمتی کرنے والوں کو بتانا تھا کہ ایک معاشرے میں رہنے والوں کو ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرنا چاہیے۔
سوئیڈن نے مسلم نوجوان کو اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے آج تورات اور انجیل نذر آتش کرنے کی اجازت دی تھی جس کی اسرائیل نے مذمت کی تھی۔
سوئیڈن میں رواں سال احتجاج کے نام پر قرآن پاک کی بےحرمتی کے دو واقعات ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ 28 جون کو سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کی مسجد کے باہر عید الاضحیٰ کے دن قرآن پاک کی بےحرمتی کا واقعہ پیش آیا۔