اسلام آباد: رضوانہ تشدد کیس میں عدالت نے جج کی اہلیہ ملزمہ سومیہ عاصم کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کردی ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں اسلام آباد میں کم عمر گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کے معاملے میں ملزمہ سومیہ عاصم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کے روبرو ملزمہ کے وکیل قاضی دستگیر عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت میں ایڈووکیٹ فیصل شہزاد نے اپنا وکالت نامہ جمع کروایا۔
جج نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانونی طور پر پابند ہیں کہ ملزمہ جو دستاویز دے وہ آپ لیں گے۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ سرگودھا میں چیک اپ کا تمام ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے ۔ پولیس نے ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کر دیا، جس کے بعد عدالت نے متاثرہ بچی کی فیملی کے وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت کردی ۔ اس موقع پر پراسیکیوٹر بھی عدالت کے سامنے پیش ہو گئے۔
پراسیکیوٹر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ بچی رضوانہ کی بازو کی دونوں ہڈیاں ٹوٹی ہوئیں تھیں ۔ جب کوئی ڈاکٹر رائے دے تو اس کا مطلب ہے جس دن میڈیکل ہوا ہے اس پر ہے ۔ متاثرہ بچی کا بیان 25 جولائی کو ریکارڈ کیا گیا۔ ریکارڈ کے اوپر کچھ تصویریں بھی بچی کی ہیں ۔ ملزمہ کے وکیل نے جو ویڈیو دکھائی وہ ہمارے ریکارڈ پر بھی ہے ۔ بچی کو جس طرح اٹھا کر بس میں بٹھایا گیا ۔ بس کے ڈرائیور کا بیان بھی ریکارڈ پر ہے ۔ عدالت نے بس کے ڈرائیور کا بیان پڑھنے کی ہدایت کردی۔
پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ٹیوٹر کا بیان بھی ہے جہاں اس نے کہا ہے کہ اس بچی کو میں نے کبھی نہیں پڑھایا ۔ اگر میڈیکل رپورٹ ٹھیک نہیں تو اس کو کسی بورڈ کے سامنے چیلنج کریں گے ۔ مٹی کی وجہ سے کیا ہڈیاں بھی ٹوٹ سکتی ہیں؟ یہ پہلی دفعہ سنا ہے ۔ زہر سے متعلق تو ہماری رپورٹ میں بھی نہیں ہے انہوں نے خود ہی فرض کر لیا ۔ عدالت میں ٹیوٹر کا بیان بھی پڑھا گیا، جس میں کہا گیا کہ میں نے کبھی بچی کو نہیں پڑھایا۔ ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہمارا مؤقف ہے بچی کام اس طرح نہیں کرتی تھی ۔
عدالت نے ملزمہ سومیہ عاصم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جج نے ریمارکس دیے کہ عدالت جذبات پر نہیں، انصاف سے فیصلہ کرے گی۔
بعد ازاں رضوانہ تشدد کیس میں عدالت نے فیصلہ جاری کردیا اور ملزمہ سومیہ عاصم کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کردی۔
