لاہور: مرکزی رہنما جماعت اسلامی حافظ محمد ادریس نے اگر کوئی شخص شعائر اسلام کی مخالفت اور مقدسات کی توہین کرے تو اسے لازماً قانون کے تحت سزا ملنی چاہیے۔ جس کا اختیار قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کے پاس ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اسلام میں کوئی گنجایش ہے نہ پاکستانی دستور میں اس کا جواز ہے۔
جڑانوالہ میں ہونے والے واقعہ کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے حافظ محمد ادریس نے کہا کہ اس کے ساتھ یہ بھی افسوس ناک ہے کہ ملک میں قانون نافذ کرنے والے اور اس پر فیصلے کرنے والے اداروں نے کبھی پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض ادا نہیں کیے۔
حافظ محمد ادریس نے کہا کہ مغرب کے دوغلے پن کا بھی یہ عالم ہے کہ وہاں حکومتوں کی اجازت سے قرآن کریم، نبی مہربانۖ اور دیگر اسلامی مقدسات کی کھلے عام بے حرمتی ہوتی ہے جب کہ کسی مسلم معاشرہ میں ایسا واقعہ ہو جائے تو اس پر شوروغل مچایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مقدسات کسی بھی مذہب کے ہوں اور ان کی توہین مغرب میں ہو یا مشرق میں، کی روک تھام ضروری ہے۔ مغرب میں ہونے والے افسوس ناک واقعات کا جواز بنا کر ہم اپنے ملک میں اسی طرح کے جرائم کی ہرگز حمایت نہیں کر سکتے بلکہ اس کی یکساں مذمت کرتے ہیں۔
