یورپی یونین نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں دہشت گردانہ حملے کی مذّمت کی اور ترکیہ کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کا پیغام دیا ہے۔
یورپی یونین کونسل کے سربراہ چارلس میشل نے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "انقرہ میں دہشت گردانہ حملے نے مجھے چونکا کے رکھ دیا ہے۔ میں ترک ملّت کو نقصان پہنچانے کے لئے کئے گئے اس حملے کی شدت سے مذّمت کرتا ہوں”۔
یورپی یونین خارجہ تعلقات و سلامتی پالیسی کے ہائی کمیشنر جوزف بوریل نے بھی یونین کی طرف سے حملے کی مذّمت کا اعادہ کیا اور کہا ہے کہ ” ہم ترکیہ کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کا اظہار کرتے اور زخمیوں کی فوری صحتیابی کے خواہش مند ہیں”۔
یورپی یونین کمیشن کےہائی کمیشنر برائے ہمسائیگی اور توسیعی امور اولیور وارہیلے نے بھی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ترکیہ کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا اور زخمی پولیس اہلکاروں کی جلد شفا یابی کی تمّنا ظاہر کی ہے۔
سویڈن کے وزیر اعظم اُلف کرسٹرشن نے بھی مذّمتی بیان میں کہا ہے کہ "ہم دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ترکیہ کے ساتھ طویل المدت وابستگی کی ایک دفعہ پھر تصدیق کرتے اور زخمیوں کی عاجل شفا یابی کے آرزومند ہیں”۔
سویڈن کے وزیر خارجہ ٹوبیاس بل اسٹروم نے بھی حملے کی مذّمت کی اور کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ترکیہ کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون پر تیار ہیں۔
اٹلی کے نائب وزیر اعظم انتونیو تاجانی نے بھی جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ” اٹلی کی حکومت ہر طرح کی دہشت گردی کی مذّمت کرتی اور ترکیہ کے ساتھ مکمل تعاون کا اظہار کرتی ہے”۔
کوسووا کے وزیر اعظم آلبین کرتی نے کہا ہے کہ اگرچہ دہشت گردانہ حملے پر مجھے سخت افسوس ہوا ہے لیکن ترک اداروں کی طرف سے حملے کو اس کے طے شدہ ہدف تک پہنچنے سے روکنا تسکین افزا پہلو ہے۔
شمالی قبرصی ترک جمہوریہ ، مصر ، سعودی عرب، امریکہ، یوکرین، برطانیہ، فن لینڈ، ناروے، ہالینڈ، جرمنی ، فرانس، اسرائیل اور پاکستان نے بھی انقرہ میں دہشت گردانہ حملے کی مذّمت کی ہے۔