سعودی عرب اور قطر نے اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں جنونی یہودی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں گھسنے پر ردعمل کا اظہار کیا۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ”ہم مسجد الاقصی پر دھاوا طول کر اسرائیلی قبضے کے اشتعال انگیز عمل کی مذمت کرتے ہیں۔” اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے جذبات کے حوالے سے اشتعال انگیزی ہے۔
بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اپنی ذمہ داری کونبھاتے ہوئے اسرائیل کے ان اشتعال انگیز کاروائیوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔
قطر ی وزارت خارجہ نےبھی اپنے تحریری بیان میں جنونی یہودی آباد کاروں کے مسجد الاقصیٰ پر ک دھاوں کی شدید مذمت کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی قانونی فیصلوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کے خلاف اشتعال انگیزی کا
ایک خطرناک اقدام ہے۔
بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان حملوں کا سد باب کرنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔
جنونی یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ مشرقی القدس میں مسجد اقصیٰ پر "سکوت ” تہوار کے بہانے مسجد اقصی میں گھسنے کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔
القدس اسلامک فاؤنڈیشن ایڈمنسٹریشن نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ سکوت کے چھٹے روز 832 جنونی یہودیوں نے اسرائیلی پولیس کی نگرانی میں گروپوں میں مسجد الاقصی پر دھاوا بولا۔
اس طرح 29 ستمبر کو شروع ہونے والی سکوت تہوار کے دوران اب تک 5 ہزار 57 جنونی یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول چکے ہیں اور یہ سلسلہ ایک ہفتے تک جاری رہے گا۔