ویب ڈیسک —
افغانستان کے صوبے ہرات میں امدادی کارکن اور دیہاتیوں نے منگل کےروز اس امید پر قائم رہتے ہوئے کہ ابھی بھی کچھ لوگ زندہ بچ سکتے ہیں ملبو ں کی کھدائی جاری رکھی۔ زلزلے کو تین رو ز ہو چکے ہیں اور اب تک علاقے میں اس کے باعث 2ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں ۔
ہرات میں ایک اور مقا م پر لوگ ہفتے کو 6 اعشاریہ 3 کی شدت میں ہلاک ہونے والے اپنے عزیزوں کی قبریں کھو د رہے تھے ۔ زندہ جان میں ایک چٹیل میدا ن میں قبروں کی ایک لمبی قطار کے لیے زمین صاف کرنے کے لیے ایک بلڈوزر سے منوں مٹی ہٹائی۔
طالبان نے کہا ہے کہ بیس دیہاتوں میں لگ بھگ دو ہزار مکان تباہ ہو گئے ہیں ۔ یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ ہفتے سے اب تک کتنی غیر ملکی امداد ہرات پہنچ چکی ہے ۔
پاکستان نے کمبل ، خیمے اور ادویات بھیجنے کا وعدہ کیا ہے اور چین کے بارے میں خبر ہے کہ اس نے نقدی اور انسانی ہمدردی کی دوسری امداد کی پیش کش کی ہے ۔
کابل نے اس بارے میں سوالات کے جواب نہیں دیے کہ بیرون ملک سے کتنی امداد پہنچ چکی ہے۔
اس سے قبل ایاز گل کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی سے متعلق دفتر نے زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے 5 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ۔ طالبان نے دنیا بھر کے ملکوں اور بین الاقوامی امدادی اداروں سے زلزلہ زدگان کی بحالی میں مدد کی اپیل کی ہے ۔
افغانستان میں زلزلے سے دو ہزار اموات
پڑوسی ملکوں پاکستان ، ایران اور چین کی ریڈ کراس سوسائٹی نے فوری طور پر زلزلہ زدگان کے لیے مالی اور دیگر امداد دی ہے ۔طالبان نے پیر کے روز کہا کہ سعودی چیریٹی نے افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے زریعے دو ملین ڈالر مالیت کی خوراک اور دوسری اشیا فراہم کی ہیں ۔
پیر کے روز ایمنیسٹی انٹر نیشنل نے طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ انسانی ہمدری کے اداروں کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں تک محفوظ اور بلا روک ٹوک رسائی کی ضمانت دیں۔
جنوبی ایشیا کے لیے عالمی نگران ادارے کےعلاقائی ریسرچر ، زمان سلطانی نے کہا کہ افغانستان کے لوگ پہلے ہی شدید اقتصادی بحران اور متعدد برسوں کے تنازعے کے اثرات سے متاثر ہیں ۔ اور اب جب کہ موسم سرما قریب ہے ایمنیسٹی انٹر نیشنل نے طالبان حکام اور انٹر نیشنل کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر ان ہزاروں خاندانوں کو رہائش، مناسب خوراک، پینے کا پانی ، اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی میں مدد کے لیے فوری طور پر اپنے وسائل کو متحرک کریں، جنہیں زلزلے سے تباہ ہوجانے والے اپنے گھروں کی وجہ سے غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے ۔
( اس خبر کا کچھ مواد اے پی سے اور کچھ ایا ز گل کی رپوررٹ پر مبنی ہے ۔)