مقبوضہ بیت المقدس : حماس کے پولیٹیکل بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری نے الجزیزہ کو انٹرودیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر حملہ کرنے سے قبل دفاعی منصوبہ بھی تیار تھا۔
حماس پولیٹیکل بیورو کے نائب سربراہ نے کہاکہ ہمارا دفاعی منصوبہ اسرائیل کےجارحانہ منصوبے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے جس کا خود دشمن کو بھی ادراک ہے، القسام کے 1,200 ارکان نے صہیونی فوج کے غزہ ڈویژن کا کنٹرول ہمارے تصور سے بھی کم وقت میں سنبھال لیا۔
العاروری نے کہا کہ اسرائیل کو معلوم ہے کہ غزہ پر اس کا حملہ اس کی فوج اور اس کے رہنماؤں کے لیےتباہی میں بدل دے گا،دشمن کی طرف سے کی جانے والی ہر کارروائی کے لیے ایک مزاحمتی منصوبہ ہے جس کے تحت ہمیں اپنے لوگوں کا دفاع کرنا ہے اور مزاحمت کرنا ہے، اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک طویل جنگ ہے جس کا سامنا دشمن کو کرناہے جس نے ہماری سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔
حماس کے رہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں فتح کے علاوہ اس جنگ کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا، مغرب ہم پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگاتا ہے، لیکن وہ اس بات کو نظر انداز کرتا ہے کہ ہمارے خلاف جنگ عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر مبنی تھی۔
انہوں نے کہاکہ امریکی اخلاقیات کی بات کرتے ہیں جب انہوں نے پوری قوم کو ختم کر دیا، اس کی سرزمین پر ایک ریاست قائم کی، اور لوگوں کو ایٹم بموں سے مارا۔امریکی اور مغربی موقف دراصل اسرائیل کے قبضے کی حمایت پر مبنی ہے۔ فاشزم، نازی ازم اور تمام وحشیانہ نظریات جو نسل کشی کا ارتکاب کرتے ہیں وہ مغرب سے آئے ہیں نہ کہ ہمارے خطے سے۔ ہمارے خطے سے مذاہب کا ظہور ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، ہمارا حملہ ایک منظم آپریشن تھا، اور قسام کی قیادت کی طرف سے ہدایات تھیں کہ قابض فوج کے غزہ ڈویژن پر حملہ کیا جائے، جو ہمارے لوگوں کے خلاف تمام جرائم کی ذمہ دار ہے، اور ہم حیران تھے کہ اسرائیلی فوج 3 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ڈھیر ہوگئی ۔