امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار جوش پال نے صدر جو بائیڈن کی اسرائیلی حمایت پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔
جوش پال نے کہا کہ وہ اسرائیل کو مزید امریکی فوجی امداد کی حمایت نہیں کر سکتے انہوں نے امریکی انتظامیہ کے ردعمل کو”دانشورانہ دیوالیہ پن” پر مبنی قرار دیا۔
اپنے استعفے کا جواز پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے لیے مسلسل امداد کے حوالے سے سیاسی اختلاف کی وجہ سے محکمہ خارجہ سے استعفیٰ دے رہا ہوں ۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہاکہ وہ “ایسا کام جاری رکھنا قبول نہیں کر سکتے جو فلسطینی شہریوں کے قتل میں معاون ہو۔”
جوش پال نے امریکی ویب سائٹ HuffPost سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ وہ امریکی حکومت کے اندر انسانی پالیسی کو آگے نہیں بڑھا سکتے، جب مجھے یقین ہوگیا کہ میں کچھ بھی تبدیل نہیں کر سکتا، میں نے استعفیٰ دے دیا۔”
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، پال اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیورو آف پولیٹیکل ملٹری افیئرز میں عوامی اور کانگریس کے امور کے ڈائریکٹر تھے، جو اسلحے کی منتقلی کا انتظام کرتا ہے۔