7اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد سے ایک نام جو صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں پورے عالمِ اسلام میں نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے وہ ابو عبیدہ کا ہے ۔
حالیہ فلسطین اور اسرائیل جنگ ہی نہیں 2006 کے بعد سے ابو عبیدہ فلسطینیوں ،مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا کے لیے ایک مشہور شخصیت بن گئے۔ سوشل میڈیا پوسٹس اور میڈیا کوریج کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ابو عبیدہ کی تصویر فلسطین ہی نہیں پوری مسلم دنیا کے عوام کے احساسات و جذبات کی ترجمان بن گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ابو عبیدہ اب ایک بین الاقوامی شخصیت بن چکے ہیں۔
ابو عبیدہ،حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز کے فوجی ترجمان ہیں۔حالیہ کشیدگی میں ان کی پریس بریفنگ عالمی میڈیا کے خاص توجہ میں رہتی ہے، خود فلسطینی بھی ان کا خطاب شوق سے سنتے ہیں گزشتہ دن (جمعرات)ان کی بریفنگ نہ صرف غزہ میں عوامی سطح پر سنی گئی بلکہ ویسٹ بینک میں مسجدوں کے لائوڈ اسپیکر کے ذریعے نشر کی گئی جب ک اردن میں سرکاری پولیس اہلکار وں اور عوام نے جگہ جگہ مختلف عوامی مراکز پر اجتماعی طور پر ان کی بریفنگ سنی۔
جعلی ابو عبیدہ
ان کی شخصیت اور بریفنگ کے انداز سے خوف زدہ اسرائیل نے ان کی شناخت کے بارے میں متعدد دعوے کیے ہیں، انہیں ایک چہرہ اور ایک نام بھی دیا ہے اور اکثر یہ دعویٰ کیا جاتاہے کہ 2008، 2012، 2014،میں ان کے گھر پر بمباری کی گئی تھی اورحالیہ جارحیت میں ان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا ذرائع نے اسرائیلی انٹیلی جنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابو عبیدہ کا تعلق نیلیا گاؤں سے ہے، جو ان متعدد فلسطینی دیہاتوں میں سے ایک ہے جس پر اسرائیل نے 1948 میں قبضہ کر کے تباہ کر دیا تھا ۔
Abu Obeida, the spokesperson for Al-Qassam Brigades, the armed wing of the Islamic Resistance movement #Hamas, said in a recorded message of which The Palestine Chronicle received a copy, that the Palestinian Resistance will respond to the massacres underway in #Gaza. pic.twitter.com/rlITGtB6FD
— The Palestine Chronicle (@PalestineChron) October 9, 2023
جولائی 2014 میں، اسرائیلی اخبار Yediot Ahronot نے دعویٰ کیا تھاکہ ابو عبیدہ نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے ۔
ہدی اور ابو عبیدہ
حقیقت یہ ہے کہ ابو عبیدہ کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں،القسام بریگیڈز کے جنرل کمانڈر محمد دیف کے برعکس ابو عبیدہ کی ابتدائی تصاویر بھی دستیاب نہیں ہیں۔
ابو عبیدہ کے متعلق سچائی پر مبنی حقیقت یہ ہے کہ وہ شہرت اور پہچان حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے،ابو عبیدہ 2006 میں نمایاں ہو کر سامنے آئے تھے ، ان کی فصاحت،دو ٹوک اندازِ تخاطب اور جذباتی لہجہ ان کی شناخت ہے۔
2006 میں ابو عبیدہ کی طرف سے جاری کردہ پہلا بیان القسام بریگیڈز کی جانب سے جنوبی غزہ کے شہر رفح کے مشرق میں ایک فوجی آپریشن کی ذمہ داری قبول کرتے وقت سامنے آیا تھا۔اس آپریشن کے نتیجے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے،یہ کارروائی اسرائیلی حملے کا براہ راست ردعمل تھا جس میں ابو غالیہ نامی ایک فلسطینی خاندان کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ شمالی غزہ کے بیت لاہیا میں ساحل سمندر پر پکنک منا رہے تھے۔
Palestinian woman Amina Ghalia has today succumbed to wounds she sustained 16 years ago when an Israeli shell hit into the beach where they were picnicking in Gaza.
A footage of her sister Huda screaming and collapsing next to the body of her killed father had shocked the world pic.twitter.com/b1xQ3wAK5z
— gaza post News (@gazaapost) September 17, 2022
اسرائیل کی جانب سے اس قتل عام میں صرف ایک فلسطینی لڑکی ہدیٰ بچ گئی تھی،وہ اپنے والدین کو پکار رہی تھی جو ساحل پر بے ہوش پڑے تھے ،اس واقعے کی کی المناک ویڈیو جب منظر عام پر آئی ۔یہ قتل عام 9 جون 2006 کو ہوا تھا اور ابو عبیدہ کا پہلا پیغام اسی مہینے کی 25 تاریخ کوجاری ہوا گویا یہ ہدیٰ کے غم کا جواب تھا۔
اس واقعے کے بعد پھر حالیہ کشیدگی میں ابو عبیدہ کی آواز مزاحمت اور استقامت کا استعارہ بن چکی ہے۔
مختلف قسم کے لیڈر
عرب رہنماؤں کی تقریروں کے برعکس، جب ابو عبیدہ جب محتاط انداز میں اپنا مختصر پیغام پیش کرتے ہیں، تو لاکھوں عرب توجہ سے سنتے ہیں۔ایک اور چیز جو ابو عبیدہ کے پیغامات کو موثر بناتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ شاذ و نادر ہی جھوٹ بولتے یا گمراہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کی گفتگو کے مخاطب صرف فلسطین ہی کے عوام نہیں ہوتے بلکہ وہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہیں۔