ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عام انتخابات کے لیے مجوزہ ضابطہ اخلاق کا ڈرافٹ تیار

اسلام آباد: الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک میں 8 فروری کو طے کیے گئے عام انتخابات کے لیے مجوزہ ضابطہ اخلاق تیار کرلیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضابطہ اخلاق میں واضح ہے کہ صدر، وزیراعظم، وزرا، عوامی عہدے دار انتخابی مہم میں شامل نہیں ہو سکیں گے، تاہم سینیٹرز اور بلدیاتی نمائندے انتخابی مہم چلا سکتے ہیں۔

مجوزہ ضابطہ اخلاق کے مطابق مختلف علاقوں میں ترقیاتی اسکیموں کے اعلان، عدلیہ، نظریہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کی گفتگو، بیانات، تقریر اور مہم پر مکمل پابندی ہوگی جب کہ سیاسی پارٹیاں اور امیدوار رشوت، تحائف یا کسی قسم کا لالچ نہیں دیں گے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے تیار کیے گئے مجوزہ ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتوں کے لیے جنرل نشستوں پر 5 فی صد خواتین امیدواروں کو ٹکٹ دینا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ جلسے جلوس اور عوامی اجتماعات میں ہر طرح کے اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی۔

انتخابی و سیاسی مہم کے لیے سرکاری خزانے  کا استعمال بھی ممنوع ہوگا جب کہ سرکاری ذرائع ابلاغ پر کسی بھی طرح کی جانب  دارانہ کوریج پر پابندی عائد ہوگی۔سیاسی جماعتوں کو جلسوں کی اجازت انتظامیہ سے مشروط ہوگی، سرکاری و سائل کے انتخابی مہم میں استعمال پر پابندی ہوگی اور کار ریلیوں کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

علاوہ ازیں فرقہ وارانہ، لسانیت پر مبنی گفتگو اور کسی شہری کے گھر کے سامنے احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ الیکشن ایجنٹ کا متعلقہ حلقے سے ہونا لازمی ہوگا  جب کہ سرکاری املاک پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے لگانے پر پابندی ہوگی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں