برطانوی وزارت عظمی کے ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم غزہ میں جنگ بندی کے مطالبات کی حمایت نہیں کرتے اور دعویٰ کیا کہ ہے ہم ممکنہ فائر بندی سے حماس کو فائدہ پہنچنے کے حق میں نہیں ہیں۔
کے لیے ممکنہ جنگ بندی نہیں چاہتے۔
ترجمان نے لندن میں غیر ملکی صحافیوں کی پریس بریفنگ میں سوالات کے جوابات دیے۔
"برطانوی حکومت کے لیے اب غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے لیے سرخ پٹی کیا ہے؟” سوال کے جواب میں ترجمان نے یاد دلایا کہ حکومت انسانی بنیادوں پر وقفوں کی حمایت کرتی ہے، لیکن اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ فی الحال غزہ میں جنگ بندی کے مطالبات کی حمایت نہیں کرتے۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری موجودہ پوزیشن فائر بندی سے حماس کو فائدہ نہ پہنچانے کی سمت ہے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ زیادہ وسیع جغرافیہ میں مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل پر برطانیہ کا دیرینہ موقف بالکل واضح ہے، ترجمان نے کہا:”ہم ایک ایسے مذاکراتی حل کی حمایت کرتے ہیں جو غزہ اور مغربی کنارے میں ایک قابل عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے ساتھ ساتھ ایک با تحفظ اسرائیل کے وجود کو یقینی بنائے، اور ہم خطے کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی تمام ملاقاتوں میں اسی کا دفاع کرتے ہیں۔”
جب ان سے غزہ میں ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کے مطالبات کے تناظر میں برطانیہ کے موقف کے بارے میں پوچھا گیا تو ترجمان نے کہا کہ "ہم بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ آیا کہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے یا نہیں اس کا تعین کرنا ہماری ذمہ داری نہیں۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں، ترجمان نے کہا: "ہاں، بالکل۔ ہم فلسطینیوں کے خلاف (اسرائیلی) آباد کاروں کے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔”
اس کے علاوہ ترجمان نے یاد دلایا کہ یہ معاملہ برطانوی وزیراعظم رشی سونک اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان آخری فون کال میں بھی اٹھایا گیا تھا۔