مقبوضہ بیت المقدس: حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا آغاز جمعہ کے روز ہو چکا ہے اور اسرائیل نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شمالی غزہ میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔
عرب ٹی وی کے مطابق 14 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی شہادت، 30 ہزار کے زخمی ہونے اور لاکھوں کے بے گھر ہونے کے بعد اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس کا آغاز جمعہ کے روز صبح 7 بجے کردیا گیا، تاہم اس موقع پر صہیونی فوج نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شمالی غزہ میں کرفیو نافذ کردیا اور وہاں وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
دوسری جانب جنوبی غزہ کے علاقوں میں، جہاں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی بڑی تعداد منتقل ہوئی ہے، ہجوم نظر آ رہاہے، جہاں فلسطینی ضروریات زندگی کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں جب کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کو جنگی زون قرار دے کر وہاں کرفیو نافذ کردیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کے ساتھ جنگ ابھی جاری ہے، صرف انسانی مقاصد کے لیے عارضی جنگ بندی کا وقفہ کیا گیا ہے۔
عرب ٹی وی کے مطابق جنگ بندی شروع ہوتے ہی متعدد فلسطینیوں نے شمالی غزہ اپنے گھروں کو جانے کی کوشش کی، تاہم اسرائیلی فوج نے ان پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں کئی فلسطینی زخمی ہو گئے۔
Video shows forcibly displaced Palestinians fleeing as Israeli forces opened fire to stop them returning to northern Gaza during the temporary truce.
Before the truce, Israel dropped leaflets warning Palestinians not to return to the area ⤵️ pic.twitter.com/8U10heEt65
— Al Jazeera English (@AJEnglish) November 24, 2023