وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دنیا اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں خواتین اور بچوں کے اندھا دھند قتل کامشاہدہ کررہی ہے، ہم جنگ کے ہتھیار کے طور پر فاقہ کشی کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔
ڈی 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیلی فورسز فلسطینیوں کے وجود کو نشانہ بنانے کے لیے منظم طریقے سے ہسپتالوں اور اہم انفراسٹرکچر پر بمباری کر رہی ہیں ،غزہ میں نہتے عوام کو بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اسرائیل کی مسلسل اور وحشیانہ جارحیت فلسطینی آبادی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کھلی کوشش ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک غیر معمولی سانحہ ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، 40 ہزار افراد شہید ہوچکے، دنیا خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کے اندھا دھند قتل کا مشاہدہ کررہی ہے، اسرائیل بھوک اور افلاس کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری بین الاقوامی کارروائی کے لیے مہم چلانی چاہیے، غزہ کے لیے انسانی امداد کے تمام راستے کھولنے کے لیے ٹھوس کارروائی ہونی چاہیے،کئی فلسطینی جان لیوا زخموں کا شکار ہیں یا معذوری کاسامنا کررہے ہیں، امدادی قافلوں پرحملے اور رفح بارڈر کراسنگ پر قبضہ انسانی امداد کو روکنے کے مترادف ہے، دنیا اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں اپنے دور کے بدترین قتل عام کا مشاہدہ کر رہی ہے۔
