اسلام آباد: وفاقی بجٹ کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اختلافات سامنے آنے لگے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے اعتماد میں نہ لینے پر پیپلز پارٹی کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور حکومت کو اس سلسلے میں ایک دن کی مہلت دی ہے۔
پی پی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں حکومت کو بجٹ تجاویز پر رابطے کے لیے کل تک کی مہلت دی ہے، جس کے بعد پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل بدھ کے روز دوپہر ڈھائی بجے دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔
پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے اجلاس میں شکایت کا اظہار کیا کہ ن لیگ کی جانب سے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جمہوریت کی خاطر وفاق میں ن لیگ کا ساتھ دے رہے ہیں مگر عوام کے مفادات پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، لیگی حکومت وعدہ پورا نہیں کررہی۔
دوسری جانب پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہمیں بجٹ کا علم نہیں ، حکومت نے اس معاملے پر ہمیں بالکل اعتماد میں نہیں لیا ہے۔ ماضی میں اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا تھا جب کہ ہم تو اتحادی ہیں، ہمیں تو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔
