اسلام آباد: حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ 2024-25 میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کے لیے تیار ہے ۔
ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے انکم ٹیکس سلیب میں کمی کی شرط عائد کردی ہے۔
اس تجویز میں تنخواہ دار طبقے کی 3 سے 5 لاکھ روپے کی ماہانہ آمدنی پر ٹیکس میں 10 فیصد اضافہ ہو جائے گا ٹیکس کی حد کو 35 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد کرنا ہے ۔
حتمی فیصلہ آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا جس میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری بھی دی جائے گی۔
مزید برآں، اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات پر 6 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگانے پر غور کیا جائے گا۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کی زیرقیادت وفاقی حکومت 12 جون آج کو مالی سال 2024-25 کے لیے اپنا پہلا بجٹ پیش کرے گی، جس کا تخمینہ 18 کھرب روپے سے زائد ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ بجٹ کا مقصد عوام کی تکالیف کو کم کرنا، زرعی شعبے کی تبدیلی، انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دینا اور برآمدات کو بڑھانا ہے۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مالیاتی انتظام کے علاوہ ریونیو کو متحرک کرنے، معاشی استحکام اور ترقی کے لیے اقدامات، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملک کی سماجی اقتصادی خوشحالی کے لیے عوام دوست پالیسیاں بھی بجٹ میں شامل ہوں گی۔
