اسلام آباد:وفاقی حکومت نئے مالی سال (2024-25ء) کا 18 ہزار 900 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کرے گی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آج بدھ کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں وفاقی بجٹ کی منظوری لی جائے گی، جس کے بعد 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
دستاویزات کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشنز اور الاؤنسز میں اضافے کی تجاویز کے ساتھ ساتھ کم گریڈ کے ملازمین اور پنشنرز کو بھی ریلیف دیے جانے کا امکان ہے۔
اسی طرح وفاقی بجٹ برائے 2024-25ء میں امپورٹڈ موبائل فون پر ٹیکس اور جی ایس ٹی مزید بڑھانے کی تجویز و سفارش کی گئی ہے جب کہ ترقیاتی بجٹ میں 1012 ارب روپے کے اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3792 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاق کا بجٹ 1500 ارب روپے مختص کیا جائے گا جب کہ صوبوں کا سالانہ ترقیاتی منصوبہ 2095 ارب روپے مختص کیا جائے گا۔ حکومت نے آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 932 ارب روپے کے مزید نئے قرض لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت 316 ارب جب کہ 600 ارب کے بیرونی قرض لیں گے۔ سندھ حکومت سب سے زیادہ 334 ارب روپے کا بیرونی قرض لے گی۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ متوقع ہے جب کہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 12.9 ٹریلین روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ میں سود اور قرضوں کی ادائیگیوں کا تخمینہ 9.5 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے، توانائی کے شعبے میں سبسڈیز کے لیے 800 ارب روپے مختص کیے جانے اور وفاقی ٹیکس ریونیو 12.9 ٹریلین روپے کے لگ بھگ مقرر کیے جانے کا امکان ہے جب کہ نان ٹیکس ریونیو کا ابتدائی تخمینہ 2100 ارب روپے لگایا گیا ہے اور پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1050 ارب روپے سے زائد وصول کرنے کا ہدف متوقع ہے۔
