
مکہ مکرمہ (خبر ایجنسیاں +مانیٹرنگ ڈیسک) مسجدالحرام کے امام وخطیب شیخ ڈاکٹرماہر بن حمد المعیقلی نے امت مسلمہ سے فلسطین کے مسلمانوں کو یہود کے ظلم سے نجات دلانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین میں جنگ پہنچ چکی ہے، فلسطینی مسلمانوں پر بے حد مظالم ڈھائے جارہے ہیں، آج کا دن دعائوں کی قبولیت کا دن ہے، میں بھی فلسطین کے مسلمانوں کے لیے دعا کرتا ہوں، آپ بھی اپنے بھائیوں کے لیے دعا کریں جو مصیبت میں ہیں، فلسطین میں ہیں، ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں ، جہاں امن ، پانی ، بجلی، کھانا کچھ بھی نہیں ہے، اپنے ان فلسطینی بھائیوں کے لیے خوب دعا کریں، ان کے لیے بھی دعا کریں جنہوں نے اہل فلسطین کی مدد کی ،کھانا دیا، ایمبولنس دی، احسان کیا، نیکی کی ان کے لیے بھی دعا کریں۔ سب سے زیادہ ان کے لیے دعا کریں جو مستحق ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو وقوف عرفہ کے دوران مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے کیا ۔شیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد نے کہاکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں واحد ہے، اللہ کی وحدانیت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر یقین اسلام کا پہلا رکن ہے ، اللہ تعالیٰ کو مخلص ہوکر پکارنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہیں کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت اللعالمین بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی زندگی کہیں تمہیں دھوکے میں مبتلا نہ کردے، جو تقویٰ کا راستہ اختیار کرے گا اللہ اس کی خطاؤں کو معاف کردے گا اور اس کو وہاں سے رزق عطا کرے گا جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرسکتا، انسان کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ یہی فلاح و کامیابی کا راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ ہر چیز کا مالک وقادر، قرآن سیدھی راہ دکھاتا ہے، اللہ پر توکل کرنے والوں کو دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے، اللہ نے قرآن میں کئی مقامات پر نماز قائم کرنے کا ذکر کیا ہے۔یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ اللہ کے رسول ؐ پر جو قرآن نازل ہوا، یہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے، اسلام کی بنیاد خیر و فلاح پر ہے، اسلام کسی کو نقصان پہنچانے کا حکم نہیں دیتا، انسان کو خیر کے راستے پر چلنا چاہیے۔خطبہ حج میں انہوں نے کہا کہ مصیبتوں اور فساد سے دور رہو، کسی کو برے نام اور برے القابات سے نہ پکارو، قرآن کہتا ہے جو ظلم کرتا ہے اس کی پکڑ ہوگی، جو مومنوں کو تکلیف دیتے ہیں کبھی فلاح نہیں پاسکتے،کسی کے جان ومال، عزت کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جائے اور کسی ناحق کو قتل نہیں کرنا چاہیے۔امام کعبہ نے کہا کہ جس انسان کا اخلاق اچھا ہے وہ دنیا وآخرت میں کامیاب ہونے والا ہے، جو ماں باپ کی خدمت کرنے والا ہے وہ بھی کامیاب ہوگا، والدین کا نافرمان نہ دنیا میں کامیاب ہوگا نہ آخرت میں ، جورشتے داروں کے ساتھ قطع تعلق کرتا ہے وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان کو ہمیشہ عدل کے ساتھ فیصلے کرنے چاہئیں، ظلم وناانصافی کے راستے کو کبھی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔شیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد نے مسلمانوں پر زور دیا کہ فحش کاموں کو چھوڑ دیں، حیا کو لازم پکڑیں ، اللہ نے شراب ، جوئے اور شرکیہ امور کو حرام کردیا ہے، شراب اور جوئے کے نزدیک نہ جاؤ، شراب پینے والے کے تمام اعمال ضائع کردیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سب سے اچھا وہ انسان ہے جو بیوی بچوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہے، انسان کو بدگمانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، کسی مسلمان کو اپنے بھائی کی غیبت نہیں کرنی چاہیے۔شیخ ڈاکٹرماہر بن حمد نے کہا کہ آپؐ نے عرفات کے میدان میں لمبی دعائیں کیں، آج کے دن دعا کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے، آج دعا کرنے سے اللہ بہت سارے لوگوں کو معاف فرما دیتا ہے، آج کے دن اللہ تعالیٰ دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ حاجیوں کو خیر وعافیت سے ان کے وطن واپس لوٹائے۔خطبے کے بعد مسجد نمرہ میں نماز ظہر کی قصر ادائیگی ہوئی ، جس کی امامت شیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد نے کی ، مسجد نمرہ میں خطبہ حج سننے کے بعد عازمین نے ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کیں۔حجاج کرام نے سارا دن میدانِ عرفات میں عبادت الٰہی اور دعائیں کرتے گزارا۔پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے 20لاکھ سے زائد عازمین حج نے میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کرکے حج کی سعادت حاصل کی ۔سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی دعوت پر 2 ہزار سے زائد فلسطینی بھی فریضہ حج میں شریک رہے۔