ایروسلم : اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین بنجمن نیتن یاہو نے6 رکنی جنگی کابینہ کو تحلیل کر دی، یہ اقدام سینٹرسٹ سابق جنرل بینی گانٹز کی حکومت سے علیحدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔
نیتن یاہو کو اپنے اتحاد میں قوم پرست مذہبی شراکت داروں کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا، وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر کو جنگی کابینہ میں شامل کیا جائے، یہ ایسا اقدام جس سے امریکہ سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تناؤ مزید بڑھ جائے گا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی رہنما نے اس فیصلے کا اعلان گزشتہ شام سیاسی سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں کیا تھا۔ زیادہ اعتدال پسند بینی گینٹز کی ہنگامی حکومت سے علیحدگی کے بعد نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی شراکت دار ایک نئی جنگی کابینہ کے قیام پر زور دے رہے ہیں۔
قوم پرست مذہبی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر ، جنہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا سمیت اتحادیوں کی جانب سے کچھ تحمل سے کام لینے کے مطالبات کے باوجود غزہ پر بمباری جاری رکھے تھے ،نے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل ایک نئی جنگی کابینہ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
