ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

وفاقی بجٹ حکومت نہیں بلکہ آئی ایم ایف بنایاہے،چودھری سلیم گجر

فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی پی پی113کے امیرچودھری سلیم گجر،جنرل سیکرٹری محمدبلال انور،میاں اجمل حسین بدر ایڈووکیٹ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وفاقی بجٹ حکومت نہیں بلکہ آئی ایم ایف بنایاہے۔ بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط پر نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی جانب سے بنا کر دیا جانے والا بجٹ ہے جسے اب حکومت نے پیش کیا۔ وفاقی او رصوبائی بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی پلان موجودنہیں ہیں۔ 24 ویں آئی ایم ایف
پروگرام بجٹ میں عام آدمی کیلئے ریلیف کی بجائے مزید مشکلات ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ زراعت میں اگر ترقی ہوئی ہے تو اس میں کسانوں کی محنت ہے۔ حکومت کسی کی بھی ہو بجٹ آئی ایم ایف ہی بناتا ہے۔ آئی ایم ایف بڑی طاقتوں کا آلہ کار ہے جو غریب ممالک کو اپنے شکنجے میں جکڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سود کی لعنت موجود ہے ترقی ممکن نہیں ہے۔ وزیر خزانہ کی اکنامک سروے تقریر ناکامیوں کی داستان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ کسانوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہے حکومت چاہتی زراعت میں ترقی نہ ہو۔ یہ خود ہی چاہتے ہیں کوئی بھی چیز آگے نہ بڑھے نہ جانے یہ کس کا ایجنڈا ہے؟۔ انہوںنے کہا کہ بجٹ آئی ایم ایف کا تیار کردہ ہے، نچلی سطح پر آئی ایم ایف ملاقاتیں کر رہا ہے۔ حکومت کی غلامی کی پالیسی ہے وہ جس سے چاہے ملیں جو چاہیں کریں ہر شعبے میں آئی ایم ایف کو دخل کی اجازت دی گئی ہے۔ ہم 24 ویں آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہورہے ہیں، جو دراصل قرضوں اور سود کی غلامی کے سوا کچھ نہیں ہے۔اجمل حسین بدر کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کو شرح سود میں زیادہ کمی کرنی چاہیے تھی۔ 90 کی دہائی میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ آیا تھا تو ن لیگ کی اس وقت کی حکومت فیصلے کے خلاف گئی تھی۔ پی پی اور پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی سود کے خاتمے کے لیے اقدام نہیں اٹھائے گئے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں