ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کینیا، عوامی احتجاج رنگ لے آیا،صدر نے مالیاتی بل واپس کر دیا

کینیا میں فوجی اہلکار احتجاج کرنے والے شہری کو دور ہٹنے کا اشارہ کررہا ہے

نیروبی (انٹرنیشنل ڈیسک) کینیا میں ٹیکسوں میں اضافے پر عوام کا احتجاج رنگ لے آیا اور صدر ولیم روٹو نے مالیاتی بل پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق صدر نے مالیاتی بل کو ترامیم کے لیے واپس پارلیمان بھجوا دیا ہے۔صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ صدر عوام سے خطاب کرکے شہریوں کو اعتماد میں لیں گے۔ دوسری جانب حکومت کے متنازع مالیاتی بل کے خلاف شہریوں کا احتجاج جاری ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے نیروبی میں پارلیمان کا رخ کیا ۔ اس دوران مشتعل افراد پارلیمان کے اندر گھسنے میں کامیاب ہوگئے، جہاں انہوں نے مختلف حصوں کو آگ لگادی اور عمارت کے احاطے میں کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگادی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ابتدائی طور پر آنسو گیس کی شیلنگ کی ، پانی کے ٹینکر کا استعمال کیا اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ اس دوران ارکان اسمبلی کو سرنگ کے ذریعے وہاں سے نکالا گیا، جب کہ کچھ قانون سازوں نے اپنے چیمبر میں چھپ کر جان بچائی۔ کینیا کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق پولیس کی براہ راست فائرنگ اور جھڑپ کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ ایمنسٹی کینیا اور دیگر فلاحی تنظیموں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے اسمبلی کے حق کے تحفظ اور سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانیوں کے باوجود احتجاج تشدد کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ حالات بے قابو ہونے پر حکومت نے مختلف شہروں میں فوج تعینات کردی ہے،جب کہ فوج کو صورتحال کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کی معاونت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ حالات بے قابو ہونے کے بعد سے 21 افرادلاپتا ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت سوشل میڈیا ایکٹوسٹ یا تجزیہ کاروں کی ہے۔ مظاہرین صدر ولیم روٹو کے استعفے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں