لاہور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہاہے کہ کہ تاجروں پر ٹیکس کا اطلاق ہر صورت ہوگا ، ملکی خزانے بوجھ کم کرنے کیلئے ناکارہ محکموں کو بند کرنا ہوگا ۔
محمد اورنگ زیب کا کہناتھا کہ پنتالیس لاکھ نان فائلر کا ڈیٹا موجود ہے ، ان سےوصولی نہیں کرسکے، نان فائلرزکی اصلاح کو ختم کرنا ہوگا، تاجروں پر ٹیکس کا ہرصورت اطلاق ہوگا، ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آرہی ہے، وفاقی کابینہ کے تنخواہیں نہ لینےسےاخراجات پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا، اخراجات میں کمی ناکارہ محکموں کوبندکرنےسےہوگی، وزارتوں کاکام صوبوں میں ضم ہوچکاانہیں کم کرناچاہیے، ہم نےپی ایس ڈی پی کوکم کیا ہے،شرح سود بتدریج کم ہونی چاہیے، آئی ایم ایف کا یہ آخری پروگرام ہوگا، فارن انویسٹمنٹ بھی ضرورت کےمطابق لیں گے۔یہ بات انہوں نے لاہور میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی خصوصی سے خطاب کرتے ہوئےکہی۔
ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ مقرر کرنا حکومت نہیں، اسٹیٹ بینک کا اختیار ہے، سال کے دوران بتدریج شرح مارک اپ کم کرنے کی گنجائش موجود ہے، آئی ایم ایف کا یہ آخری پروگرام ہوگا، گروتھ بجٹ 3 سال پہلےدیا چندماہ بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑگیا، کل ٹیکس آمدنی کا 60 فیصد صوبوں کو چلاجائے گا، صوبوں کے ساتھ مشاورت کررہے ہیں، فارم ہاؤسز پر ٹیکس لگائیں، زرعی آمدنی پرٹیکس صوبوں کا اختیار ہے،ان کو کہہ رہے ہیں کچھ کریں۔
وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ذخائر 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں،کہا جا رہا تھا ڈالر ساڑھے 300 روپے کا ہو جائے گا،ہم میکرو اکنامک استحکام کی جانب بڑھ رہے ہیں،ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آرہی ہے،ہمیں بجٹ کو وسیع تناظرمیں دیکھناچاہیے،تاجروں کی گزارشات کو ضرور دیکھیں گے،یہ واحد ملک ہے جہاں نان فائلرزکی اختراع ہے،ایف بی آرکی ڈیجیٹائزیشن کیلئےدن رات کام جاری ہے۔
