امریکا کے صدر جو بائیڈن کی زبان کے پھسلنے کا سلسلہ دم توڑنے کا نام نہیں لے رہا۔ وہ بہت سے اہم مواقع پر کچھ کا کچھ کہتے رہے ہیں۔ ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کے بعد ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن کی زبان ایک بار پھر پھسل گئی۔
جو بائیڈن نے قوم پر زور دیا کہ جمہوری روایات کا احترام کرے اور تشدد سے گریز کرے کیونکہ تشدد سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات بات چیت سے حل کیے جانے چاہئیں۔
اپنے خطاب میں جو بائیڈن نے کہا کہ کسی بھی نوع کے قومی تنازعات کو حل کرنے کے لیے ووٹ کی طاقت سے مدد لینی چاہیے۔ اس موقع پر وہ ballot box (ووٹوں کا ڈبا) کو battle box (لڑائی کا ڈبا) کہہ گئے۔
جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکا میں تشدد کی گنجائش اب نہیں کیونکہ معاملات بہت بگڑچکے ہیں۔ لازم ہے کہ افہام و تفہیم کے ذریعے کام کرنے کی روایت کو پروان چڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ بھی تھامس میتھیو کروکس نے کیا وہ کسی بھی اعتبار سے درست نہ تھا کیونکہ ایسے افعال سے معاشرے میں انتشار بڑھتا ہے۔
