ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

طلبہ کا احتجاج، امریکا اور بنگلا دیش میں ٹھن گئی

بنگلا دیش میں طلبہ نے ملازمتوں میں کوٹے کے حوالے سے جو احتجاجی تحریک شروع کی تھی وہ اب خطرناک موڑ پر ہے۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے دوران 3 طلبہ ہلاک ہوچکے ہیں۔

بنگلا دیشی طلبہ کی ہلاکت پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے تبصرہ کیا تو ڈھاکا نے شدید ردِعمل ظاہر کیا جس پر بظاہر دونوں ممالک کے درمیان ٹھن گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے بنگلا دیشی طلبہ پر پولیس کے تشدد اور 3 طلبہ کی ہلاکتوں پر تبصرے کے جواب میں بنگلا دیش کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کی کابینہ کے ایک رکن نے کہا ہے کہ امریکا دوسروں کے معاملات کا جائزہ لینے اور اُن پر نکتہ چینی کرنے سے قبل اپنے گریبان میں جھانکے، آئینے میں خود دیکھے۔

بنگلا دیشی وزرا نے امریکی ردِعمل کو جعلی اور کھوکھلا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلا دیشی طلبہ کے احتجاج کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بے بنیاد اور بوگس بیان دیا ہے۔

میتھیو ملر نے کہا تھا کہ ہم نے بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے کوٹے پر طلبہ کی تحریک خوں ریزی کی طرف چل پڑی ہے۔ میتھیو ملر نے کہا تھا کہ بنگلا دیشی حکومت کو اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملات کی درستی پر توجہ دینی چاہیے۔

امریکا اور بنگلا دیش کے تعلقات ڈیڑھ 2 برس کے دوران کشیدہ رہے ہیں۔ امریکا نے بنگلا دیش میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شیخ حسینہ کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور بنگلا دیش کی ایلیٹ پیرا ملٹری فورس ریپڈ ایکشن بٹالین (ریب) کے موجودہ اور سابق ارکان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے اُس پر پابندی لگائی ہے۔

شیخ حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ امریکا کو بنگلا دیش سمیت کسی بھی ملک کے معاملات میں مداخلت اور تنقید کا حق حاصل نہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا جمہوریت اور دوسرے بہت سے معاملات میں دُہرے معیارات کا حامل ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں