کراچی (اسٹاف رپورٹر+ مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں شدید ترین گرمی اور حبس کی لہر جاری، پارہ 40 ڈگری تک پہنچ گیا جبکہ گرمی کی شدت 54 ڈگری محسوس کی گئی، 24 گھنٹے کے دوران شہر کے مختلف مقامات سے 33 لاشیں ملیں، محکمہ صحت سندھ نے ہیٹ اسٹروک سے 2 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی، جون سے اب تک ہیٹ اسٹروک سے انتقال کرنے والوں کی تعداد 51 ہوگئی، ریکارڈ گرمی اور ہیٹ ویو کی وجہ سے کراچی بار ایسوسی ایشن نے 10 روز کیلیے کالا کوٹ پہننے سے استثنا مانگ لیا، کراچی بار کے جنرل سیکرٹری نے سیشن ججز کو خط میں لکھا کہ اس ہیٹ ویو میں وکلاء کیلیے کالا کوٹ پہننا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے، گرمی کی شدت میں کوٹ پہن کر کام کرنا صحت کیلیے نقصان دہ ہے، وکلاء کو 10 دن کیلیے بغیر کوٹ کے پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔ تفصیلات کے مطابق پٹیل پاڑا، کورنگی نمبر 6، لیاری جنرل اسپتال، گلشن اقبال، نیو کراچی سندھی ہوٹل، کینٹ اسٹیشن، لانڈھی بابر مارکیٹ، گارڈن شو مارکیٹ، آئی آئی چندریگر روڈ، قائدآباد، سپرہائی وے، ملیر، کلفٹن ، سپر ہائی وے فروٹ منڈی، اور لیاری جہان آباد سے لاشیں ملیں جبکہ لائنز ایریا میں محنت کش بلال شدید گرمی کے باعث انتقال کرگیا، خیال رہے گزشتہ رات جولائی کی دوسری گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی، ریسکیو ادارے نے بتایا کہ 20 میں سے 5 افراد طبی موت کا شکارہوئے جبکہ 15 نشے کے عادی ہیں۔ دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کے مطابق 17 جولائی کو سرکاری اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے 49 کیسز رپورٹ ہوئے۔ جناح اسپتال میں 3، سول اسپتال میں 22، سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد میں 22 اور نیوکراچی اسپتال میں 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ہیٹ اسٹروک سے 2 ا موات ہوئیں۔