باڈہ (نمائندہ جسارت) لاڑکانہ ضلعے کے دوسرے بڑے شہر باڈہ کو تحصیل کا درجہ نہ ملنے کے خلاف باڈہ تعلقہ موومنٹ کی جانب سے کی گئی جدوجہد کو 5 سال مکمل ہوگئے۔شہریوں کے حوصلے پست ہونے کے بجائے ہمالیہ سے بھی اونچے، باڈہ تحصیل کا نوٹیفکیشن ملنے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم۔ باڈہ تعلقہ موومنٹ کی جانب سے باڈہ کو تحصیل کا درجہ دلانے کے لیے موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر زیب علی ساریو اور کامریڈ قادر بروہی کی قیادت میں 262ویں ہفتے بھی باڈہ میڈیا ہاؤس سے ٹاؤن ہال تک ریلی نکال کر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے جن پر باڈہ کو تحصیل کا درجہ دلانے کے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں باڈہ شہر کی سیاسی سماجی علمی ادبی صحافتی اور کاروباری تنظیموں کے رہنماؤں علی انور عسکری، کامریڈ اصغر نوناری، محمد علی خشک، دودو دیشی، فدا حسین تنیو، میر مرتضیٰ گوپانگ، بخشل مگسی، نور ساریو، محمد امین سیال، علی رضا نوناری، طاہر نور ہیسبانی، مور سندھی، غلام الرسول، علی زھری اور دیگر شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے باڈہ تحصیل کے حق میں فلک شگاف نعرے بازی کی۔ اس موقعے پر رہنماؤں نے مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باڈہ شہر 14 وارڈوں پر مشتمل لاڑکانہ ضلعے کا دوسرا بڑا شہر ہے اور اپنے گردونواح تحصیل بنے شہروں سے دگنا بڑا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ 5 سال بیت جانے کے بعد بھی سڑکوں پر کھڑے ہوکر باڈہ تحصیل کے حاصلات کے لیے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں مگر حکمران کانوں میں روئی ڈالے معاملے سے بے خبر بنے بیٹھے ہیں جبکہ گذشتہ الیکشن مہموں میں انہوں نے باڈہ مکینوں سے باڈہ کو تحصیل کا درجہ دینے کے وعدے کرکے ووٹ لیے تھے۔ مزید انہوں نے پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پ پ ایم این اے نظیر احمد بگھیو، پ پ ایم پی اے عادل الطاف حسین انڑ اور دیگر پیپلزپارٹی قیادت سے دیرینہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا کے فی الفور باڈہ تحصیل کا نوٹیفکیشن جاری کر کے باڈہ مکینوں میں پھیلی ہوئی بیچینی ختم کی جائے نہیں تو احتجاج کا دائرہ مزید بڑھا دیا جائے گا اور یہ تاریخی جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک باڈہ شہر کو تحصیل کا درجہ دلا تحصیل کا درجہ نہیں دیا جاتا۔