ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

صدارتی مہم: ٹرمپ اور ہیرس کے ایک دوسرے کے بارے میں سخت بیانات

ویب ڈیسک _ امریکہ کی صدارتی دوڑ منگل کو ایک نئے مرحلے میں اس وقت داخل ہو گئی جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ڈیموکریٹک حریف کاملا ہیرس نے نومبر میں ہونے والے الیکشن کے لیے ایک دوسرے پر شدید جملے بازی کی۔

ٹرمپ نے اپنی تنقید کا رخ 81 سالہ صدر جو بائیڈن سے ہٹ کر کاملا ہیرس کی طرف کر دیا جو پانچ نومبر کے صدارتی انتخاب میں ممکنہ طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ان کی حریف ہوں گی۔

صدر بائیڈن ڈیموکریٹک ساتھیوں کے دباؤ کے بعد اختتامِ ہفتہ اپنی انتخابی مہم سے دستبردار ہو گئے تھے۔ البتہ انہوں نے کاملا ہیرس کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

اناسی سالہ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا،” جھوٹ بولتی کاملا ہیرس ہر اس چیز کو تباہ کر دیتی ہے جسے وہ چھوتی ہے۔”

اس سے قبل ٹرمپ نے ہیرس پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے بائیڈن کی حالت چھپانے میں مدد کی۔ ٹرمپ نے کہا، "ڈیموکریٹس نے جھوٹ بولا اور عوام کو بے ایمان جو بائیڈن کے بارے میں گمراہ کیا، اب ہمیں پتا چلا ہے کہ وہ سمجھ بوجھ اور جسمانی طور پر مکمل مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں۔”


امریکی صدر جو بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن

ڈیموکریٹ نائب صدر کاملا ہیرس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ٹرمپ جیسوں کو جانتی ہیں۔ ہیرس ملک کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست کیلی فورنیا میں عدالت میں وکیل استغاثہ رہی ہیں۔

پیر کے روز بائیڈن نے ہیرس کی انتخابی مہم کے کارکنوں کو بتایا، "ٹکٹ پر نام بدل گیا ہے، لیکن مقصد بالکل نہیں بدلا۔ ویسے بھی میں کہیں نہیں جا رہا ہوں۔ میں انتخابی مہم میں کاملا کے ساتھ ہوں گا۔”

بائیڈن نے مہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا "مجھے امید ہے کہ آپ اپنے دل و جان سے کاملا کے لیے بھی وہ کریں جو آپ نے میرے لیے کیا۔”

بائیڈن نے کہا کہ وہ بدھ کی شام وائٹ ہاؤس سے قوم سے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کے اپنے فیصلے کے بارے میں خطاب کریں گے اور بتائیں گے کہ وہ اپنے عہدے کے باقی وقت میں کس طرح حکومت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سال 1968 میں لنڈن جانسن کے بعد بائیڈن پہلے صدر ہیں جو دوبارہ منتخب ہونے کی انتخابی مہم سے دستبردار ہوئے ہیں۔




اگرچہ کچھ ڈیموکریٹک عہدیداروں نے ابتدائی طور پر یہ سمجھا تھا کہ بائیڈن کی دستبرداری پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے کئی دعویداروں کے درمیان مقابلے کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن ممکنہ طور پر صدارتی امیدواروں نے جلد ہی کاملا ہیرس کی امیدواری کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

کاملا نے پیر کی شب دیر گئے تک شکاگو میں ڈیموکریٹ پارٹی کے قومی کنونشن کے لیے اتنے زیادہ مندوبین جمع کر لیے تھے کہ وہ غیر سرکاری طور پر پارٹی کی طرف سے صدارتی نامزدگی کا دعویٰ کر سکیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کا نیشنل کنونشن سے 19 سے 22 اگست تک ہو گا۔ البتہ کنونشن سے قبل ہی ایک ورچوئل بیلٹ کے ذریعے سات اگست کو صدارتی امیدوار کا فیصلہ کر لیا جائے گا۔

ایوانِ نمائندگان کی سابقہ اسپیکر نینسی پلوسی نے کاملا ہیرس کی کھل کر حمایت کی ہے۔ دو اعلیٰ ترین ڈیموکریٹک کانگریسی رہنماؤں، سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر اور ایوان میں اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے منگل کو ہیرس کی حمایت کی تھی۔

شومر نے کہا تھا "بھئی، ہم پرجوش ہیں۔ یہ ایک خوشی کا دن ہے۔ ڈیموکریٹس پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہو کر ہیرس کی حمایت کر رہے ہیں۔”


رواں سال سات مارچ کو صدر جو بائیڈن کے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے قبل اس وقت کی نمائندہ نینسی پیلوسی اور سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر بات کر رہے ہیں۔

رواں سال سات مارچ کو صدر جو بائیڈن کے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے قبل اس وقت کی نمائندہ نینسی پیلوسی اور سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر بات کر رہے ہیں۔

ہیرس کی انتخابی مہم نے کہا ہے کہ صدر بائیڈن کی دستبرداری کے اعلان کے بعد پیر کی شام تک مہم نے 100 ملین ڈالر سے زیادہ کا انتخابی چندہ جمع کر لیا ہے۔

دریں اثنا، ہیرس اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ وہ اپنے ساتھی یعنی نائب صدر کے طور پر کسے منتخب کریں۔

خبروں کے مطابق سامنے آنے والے ناموں میں ریاست ایریزونا کے سینیٹر مارک کیلی، جو کہ ایک سابق امریکی خلاباز ہیں، اور چھ ریاستی گورنرز، کینٹکی کے اینڈی بیشیر، مشی گن کی گریچین وائٹمر، الی نوائے کے جے بی پرٹزکر، منی سوٹا کے ٹم والز، پنسلوینیا کے جوش شاپیرو اور نارتھ کیرولائنا کے رائے کوپر شامل ہیں۔

منگل کو ہیرس نے ممکنہ ڈیموکریٹک امیدوار کے طور اپنی پہلی انتخابی ریلی کے لیے ریاست وسکونسن میں ملواکی کا رخ کیا۔

گزشتہ ہفتے ری پبلکن صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ بدھ کو ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر شارلٹ میں ایک ریلی کے ساتھ اپنی مہم دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں