لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ حکمرانوں کے عاقبت نا اندیش فیصلوں کی بدولت بجلی شدید مہنگی ہو چکی ہے، بڑے پیمانے پر کاروبار اور صنعتیں بند ہو رہی ہیں، ایک آئی پی پی 50 ارب روپے میں لگا، اس کو اب تک 400 ارب روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں۔ آئی پی پیز کو ماہانہ 150 ارب روپے کی کیپسٹی پیمنٹ ہورہی ہے، بند پلانٹس کے ساتھ 10,15 فیصد پر چلنے والے پلانٹس کو بھی ادائیگیاں کی جارہی ہیں، تمام آئی پی پیز کا فارنزک آڈٹ کرایا جائے اور معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں،آئی پی پیز میں 52فیصد حصہ حکومت کا اپنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور اور قصور میں مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ظلم کے ا س نظام کے خلاف 26 جولائی کو دی چوک اسلام آباد میں بھرپور احتجاجی دھرنا دے گی، اس دھرنے میں تمام محب وطن لوگوں اور جماعتوں کو خوش آمدید کہیں گے۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں ’’حق دو عوام کو۔ حق دو پاکستان کو‘‘ تحریک کاآغاز کر دیا ہے، ہم عوام کو درپیش مشکلات کے حل تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 25 کروڑ عوام پربجلی کے بل بم بن گئے، عوام بلوں کی ادائیگی کے لیے گھر کی اشیا اور خواتین زیور فروخت کر رہے ہیں، پیٹرول، گیس کی قیمتیں بڑھا دی گئیں، آئی پی پیز سے ظالمانہ معاہدے، قومی معیشت اور عوام پر بڑا بوجھ بن چکے ہیں، آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد مزید اضافے کا عندیہ دیا جا رہا ہے، حکمران طبقات، اراکین اسمبلی، سول ملٹری بیوروکریسی اور ججز اپنی مراعات کے لیے ایک ہو گئے، عوام صحت، تعلیم سمیت بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔محمد جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ پاکستان پر بیرونی قرض 130 ارب ڈالرسے تجاوز کرگیا، اس میں پرائیویٹ سیکٹر کا قرض بھی شامل ہے۔