
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں اقتدار پر قابض بشارالاسد روس پہنچ گئے،جہاں انہوں نے ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی۔ خبررساں اداروں کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور تعاون میں مزید اضافے کے علاوہ خطے کی صورتحال پر غور کیا گیا۔کریملن میں ہونے والی ملاقات کے دوران بشارالاسد سے بات چیت کرتے ہوئے پیوٹن کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ اس وقت خطے میں کشیدگی کا رجحان پایا جا رہا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس کا براہ راست شام پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ ہم دنیا میں ہونے والے ہر واقعے کو دیکھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہماری یورپ اور ایشیا میں حالات کے اتار چڑھاؤ پر بھی نظر ہے۔ اس موقع پر بشار الاسد کا کہنا تھا کہ ملاقات اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ صورتحال کے حوالے سے بہت اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کر سکیں گے، حالات کے مختلف تناظر دیکھ سکیں گے اور ان سے جڑے ہوئے منظر ناموں کو سمجھ سکیں گے۔دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ بھی شام کے تعلقات میں پیش رفت کا امکان ہے اور دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات متوقع ہے۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم صدر اردوان اور بشار الاسد کی ملاقات پر کام کر رہے ہیں۔