میرپورخاص (نمائندہ جسارت) سماجی اداروں کے رہنماؤں شہزاد بجیر، محمد اسلم پنہور، شگفتہ، حارث نجیب، ونود کمار، لینا خالد اور دیگر نے کہا ہے کہ خواتین کو مساوی حقوق دیے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، پاکستان بین الاقوامی معاہدوں میں صنفی مساوات کو یقینی بنانے کا پابند ہے، ریاستی ادارے اس سلسلے میں کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک میں اسکل ڈیولپمنٹ کے لیے تربیتی کورسز کرائے جا رہے ہیں، معاشی طور پر وہ ترقی کر سکتے ہیں لیکن جب صنفی عدم مساوات ہو گی تو معاشرہ ترقی نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی معاہدوں میں صنفی مساوات کو یقینی بنانے کا پابند ہے اور اس سلسلے میں ہمارے سماجی اور قومی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات کے تحت نہ صرف خواتین کے حقوق بلکہ مردوں کے حقوق کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ مختلف سماجی ادارے نوجوانوں کو تربیت دے رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی ایسی صنعتوں کو بنانا چاہیے جن سے یہ تربیت یافتہ نوجوان ان صنعتوں میں کام کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تھر سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں تھر تھرپارکر میں ہینڈی کرافٹ کا فن بہت زیادہ ہے۔