ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکہ کا افغانستان کو دہشت گردی کا لانچنگ پیڈ بننے سے روکنے کا عزم

ویب ڈیسک _ امریکہ نے کہا ہے کہ داعش خراساں ایک بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورک ہے جو حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ افغانستان کبھی بھی دہشت گرد حملوں کے لانچنگ پیڈ کے طور پر کام نہ کرے۔

محکمۂ خارجہ کے نائب ترجمان ودانت پٹیل نے روزانہ کی پریس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان سے ابھرنے والے خطرات کے انسداد کے لیے کام کر رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ داعش خراساں ایک بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورک ہے جو بین الاقوامی دہشت گرد حملے کرنے کی ‘صلاحیت اور عزائم’ رکھتا ہے۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان سے اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ پر امریکی مؤقف کے بارے میں پو چھا گیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور وہ سرحد پار پاکستان پر حملے بھی کر رہے ہیں۔




جواب میں پٹیل نے کہا،” جیسا کہ ہم مسلسل کہتے ہیں، ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ افغانستان کبھی بھی امریکہ یا ہمارے اتحادیوں کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے ایک لانچنگ پیڈ کے طور پر کام نہ کرے۔”

ترجمان نے کہا کہ امریکہ خطے میں اتحادیوں سمیت اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ "ہم افغانستان سے بیرونی خطرات کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کے لیے چوکنا ہو کر کام کر رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے لیے تمام تر کوششں کر رہا ہے۔


 بنوں میں فوجی کمپاؤنڈ پر عسکریت پسندوں کے ایک حملے کے بعد کا منظر، فوٹو اے پی، 15 جولائی 2024

 بنوں میں فوجی کمپاؤنڈ پر عسکریت پسندوں کے ایک حملے کے بعد کا منظر، فوٹو اے پی، 15 جولائی 2024

قبل ازیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک نئی رپورٹ میں افغانستان میں موجود عسکریت پسند تنظیم ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کو درپیش خطرات کو اجاگر کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان سرحد پار پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کے تعاون میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان حملوں میں پاکستانی فوجی چوکیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سلامتی کونسل کی القاعدہ، داعش اور ان سے ملے گروپوں سے متعلقہ "اینالٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم” کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کے چھ ہزار سے زیادہ جنگجو موجود ہیں۔

رپورٹ نے نوٹ کیا ہے کہ افغانستان سے ابھرنے والے خطرات نے اقوامِ متحدہ کے کئی رکن ملکوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں