اسلام آباد(صباح نیوز)فلسطین کی آزادی پسند تحریک حماس کے راہنما اسماعیل ہنیہ کی تہران میں شہادت پر ایران و اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں پاک ایران اعلی سطح کی قیادت کے رابطے ہوئے ہیں۔سفارتی ذرائع کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی نگراں وزیر خارجہ علی باقری سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔دونوں رہنماوں کے درمیان رابطہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے تناظر میں بڑھتی ایران اسرائیل کشیدگی پر ہوا۔ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنماؤں نے تہران میں قاتلانہ حملے میں شہید ہونے والے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا معاملہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اجلاس میں اٹھانے پر اتفاق کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اور ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ایرانی وزیر خارجہ نے فلسطین مزاحمتی گروپ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ایرانی لیڈرشپ اور عوام کے غم و غصّے سے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحٰق ڈار کو آگاہ کیا۔ اسحٰق ڈار نے اسمٰعیل ہنیہ کی شہادت پر وزیراعظم شہباز شریف کی مذمت اور قومی اسمبلی کی قرارداد سے ایرانی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔ نائب وزیراعظم نے دو ٹوک پیغام دیا کہ اسماعیل ہنیہ کا قتل عالمی قوانین، سفارتی آداب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے اس حوالے سے بلائی گئی او آئی سی کے اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کے لیے اسحٰق ڈار کو درخواست کی۔نائب وزیراعظم نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس بلانیکی مکمل حمایت کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ پاکستان او آئی سی کے اس اہم اجلاس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے گا۔