ٹنڈوآدم( نمائندہ جسارت)ٹنڈو آدم کے قریب روہڑی کینال کو 50 فٹ چوڑا شگاف، سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں اور کئی گائوں زیر آب، لوگ خوف کے مارے اپنے گھر چھوڑ کر نقل مکانی کرنے لگے۔ تفصیلات کے مطابق ٹنڈوآدم کے قریب روہڑی کینال کو صبح کے وقت 20 فٹ شگاف پڑگیا جو بڑھتے ھوے 50 فٹ تک پہنچ گیا اطلاع دینے کے باوجود آبپاشی کا عملہ نہ پہنچنے پر دیہاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت شگاف کو پر کرنے کی کوشش کی مگر سب بیکار گیا اور پانی گاؤں عالم ڈیرو میں داخل ہونے کے بعد دیگر گائوں کی جانب بڑھنے لگا۔ ایمرجنسی صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے آس پاس کے درجنوں گائوں کو خالی کراکر ان لوگوں کو پبلک اسکول میں پناہ دی گئی ہے۔ شگاف کا سن کر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے ضلع سانگھڑ کے لیے بارشوں کے دوران ریلیف فراہم کرنے کے لیے مقرر فوکل پرسن صوبائی وزیر شاہد تھہیم نے شگاف پڑنے والے مقام کا دورہ کیا اور شگاف کو فوری طور پر بند کرنے کے احکامات دیے۔ صوبائی وزیر شاہد خان تھہیم نے محکمہ آبپاشی کے عملے سے شگاف سے متعلق تفصیلات لی اور متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ، سانگھڑ اور محکمہ آبپاشی نے شگاف کی بندش اور متاثرین کی مدد کے لیے مشترکہ اقدامات کیے ہیں۔ قبل ازیں ڈویژنل کمشنر شہید بینظیر آباد محمد سجاد حیدر شاہ نے ڈپٹی کمشنر سانگھڑ عمران الحسن خواجہ کے ہمراہ شگاف والے مقام پر پہنچے اور شگاف کی صورتحال کا جائزہ لیا۔کمشنر محمد سجاد حیدر نے حکام کو ہدایت کی کہ شگاف کو فوری طور پر بند کر کے انہیں رپورٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ سانگھڑ کا عملہ شگاف والے مقام پر 24 گھنٹے موجود ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تر انتظامات بھی مکمل ہیں۔ اس موقع پر سابق ایم این اے نوید ڈیرو بھی موجود تھے۔ خبر فائل ہونے تک شگاف پر نہ ہو سکا تھا۔