محراب پور(جسارت نیوز)محراب پورکے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول (محبوب علی جوکھیو) کے قیمتی درختوں کی کٹائی، راتوں رات بیچے جانے کا خدشہ، محکمہ تعلیم خواب خرگوش میں سویا ہوا ہے، گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول (محبوب علی جوکھیو ) کے انچارج پرنسپل مختار متلو نے تعطیلات ختم ہونے سے قبل ہی ا سکول کے اندر موجود قیمتی درختوں کو کاٹنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔یاد رہے کہ اسکول کے احاطے میں درختوں کی کٹائی اور خستہ حال عمارت سمیت مختلف امور کیلئے اسکول انتظامیہ، صحافیوں، وکلا اور شہریوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی،امید تھی کہ لگے درختوں میں سے خستہ حال درختوں کی کٹائی کے بعد اسکول میں زیر تعلیم طالب علموں کیلیے فرنیچر تیار کیا جائے گا لیکن بدقسمتی سے اسکول کے انچارج پرنسپل مختار میتلونے رات گئے اسکول کے قیمتی درختوں کو بغیر کمیٹی کو اعتماد میں لیے کٹوا کر شہر کے کسی آرا مشین میں منتقل کر دیے ہیں،رابطہ پر اسکول کمیٹی کے رکن نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ صرف ان درختوں کو ہٹایا جائے گا جو گر چکے ہیں یا سوکھ چکے ہیں لیکن اکثر درختوں کو کٹوا کر آرا مشین پر منتقل کر دیا ہے جبکہ بقایا درخت کاٹنے کی منصوبہ کو میڈیا نمائندوں نے موقع پر پہنچ کر ناکام بنا دیا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آبزرور نوشہرو فیروز کے کوآرڈینیٹر محمد سلیم مغل، سماجی رہنما اطہر جوکھو نے ڈائریکٹرتعلیم شہید بینظیر آباد اور ڈی ای او سیکنڈری تعلیم نوشہرو فیروز سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے لاکھوں روپے مالیت کے درختوں کی نیلامی کر کے اتنی رقم سکول کے اکاؤنٹ میں ڈالی جائے۔