مٹیاری(نمائندہ جسارت) مٹیاری ضلع بھر میں گیارہ گھنٹوں سے موسلادھار بارش،سیوریج نظام ناکارہ ہونے سے ندی نالوں میں طغیانی شہری دیہی علاقے دریائے سندھ کا منظر دکھائی دینے لگے، بھٹ شاہ کے قریب روہڑی کینال میں موسلادھار بارش سے 70 فٹ شگاف، ہزاروں ایکڑ زرعی زمین زیرآب، کئی مکانات پانی کے نظر ہوگئے شگاف کو پر نہ ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات، وزیر بحالی کے الرٹ رہنے کے احکامات کو ضلع بھرکے افسران نے ہوامیں اڑادیا، فوٹو سیشن تک محدود مٹیاری ضلع کے چھوٹے بڑے شہرودیہات میں ہالا، بھٹ شاہ، نیوسعیدآباد، مٹیاری اور گردونواح میں گیارہ گھنٹوں سے ہونے والی بارش نے افسران کی ناقص کارکردگی کے پول کھول دیے سیوریج نظام ناکارہ ہونے سے شہری دیہی علاقے دریائے سندھ کامنظر دکھائی دینے لگے جس سے شہریوں کی زندگی اجیرن بن گئی،مٹیاری ضلع بھر کے افسران نے صرف فوٹوسیشن کراتے ہوئے دکھاواکیا جبکہ کافی دیر تک پانی اور کیچڑ علاقوں میں پڑی رہی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی صوبائی وزیربحالی مخدوم محبوب الزماں نے ڈی سی دفتر میں تمام محکموں کے افسران کو مون سون کے پیش نظر ہائی الرٹ رہنے اور تمام انتظامات مکمل کرنے کی سخت ہدایات جاری کی تھی لیکن صوبائی وزیر کے جاتے ہی افسران بھی گہری نیند سوگئے دوسری طرف محکمہ آبپاشی کی جانب سے ناقص کارکردگی کے باعث بھٹ شاہ کے قریب روہڑی کینال میں موسلادھار بارش سے پانی کے بہائو میں اضافہ ہونے کی وجہ سے 70 فٹ شگاف پڑگیا جس کی وجہ سے ایک طرف ہزاروں ایکڑ زرعی زمین زیر آب آگئی ہے جس سے کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کانقصان ہوا دوسری طرف قریبی دیہات میں پانی داخل ہونے سے درجنوں مکانات پانی میں بہہ گئے سیکڑوں غریب مساکین لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے محکمہ آبپاشی اور انتظامیہ شگاف کو پر کرنے کے لیے نہ پہنچ سکی، سول سوسائٹی نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکرٹری سندھ، صوبائی وزیربحالی سے فوری نوٹس لے کر افسران کی ناقص کارکردگی پرنوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔