اسرائیل پر حزب اللہ کے ڈرون اور راکٹ حملوں کے دوران، آئرن ڈوم دفاعی نظام سے داغے گئے ایک میزائل نے نے اسرائیلی بحریہ کے اہلکار کو ہی نشانہ بنا دیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آئرن ڈوم کا میزائل بحریہ کی کشتی کے قریب پہنچ کر پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کی ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ حزب اللہ کے حملے کے وقت بحریہ کی کشتی عکا کے ساحل کے قریب تعینات تھی۔ حزب اللہ کے کم از کم دو ڈرون اس علاقے سے گزرے، جنہیں گرانے کے لیے آئرن ڈوم سے دو میزائل داغے گئے تھے۔
تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا آئرن ڈوم میزائل نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنا نشانہ تبدیل کیا اور بحریہ کی کشتی کے اوپر پھٹ گیا۔ فوج کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ آئرن ڈوم نے کشتی کے اوپر موجود حزب اللہ کے ڈرون کو نشانہ بنایا ہو، تاہم اس امکان کو کم ہی سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اپنے کمانڈر فواد شکر کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر رات گئے 320 راکٹ اور 100 سے زائد ڈرون فائر کیے تھے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے مختلف شہروں اور اسرائیلی فوجی تنصیبات کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا، جن میں آئرن ڈوم دفاعی نظام بھی شامل تھا۔
حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے اپنے کمانڈر فواد شکر کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے 320 راکٹ فائر کیے، اور یہ ہمارا بدلے کا صرف پہلا مرحلہ ہے، جو اب مکمل ہوا ہے۔
