نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے چینی صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کے خلاف جاری جرائم پر تشویش ظاہر کردی۔ سنکیانگ کے بارے میں 2سال میں مرتب کی گئی رپورٹ میں کہا گیا مسائل کا سبب بننے والی پالیسیاں اب بھی جاری ہیں۔ چین میں ایغور مسلمانوں کی آبادی 10لاکھ سے زیادہ ہے۔ صوبہ سنکیانگ میں ایغور بھی ہیں اور دوسرے مسلمان بھی جو چین میں اقلیت سمجھے جانے کے باعث مبینہ طور پر قیدو بند کا شکار رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے او ایچ سی ایچ آر نے انکشاف کیا کہ فروری 2023 ء سے جنیوا میں چینی حکام کے ساتھ مسلسل بات چیت کی جاتی رہی ہے اور انہیں قائل کیا کہ انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کو 26 مئی سے یکم جون کے دوران چین جانے کی اجازت دی جائے۔ او ایچ سی ایچ آر کی ترجمان روینہ شامداسانی نے کہا کہ اس عرصے میں چینی حکام کے ساتھ انسانی حقوق کے ساتھ ، انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں اور فوجداری نظام انصاف کے موضوعات پر بات چیت کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبہ سنکیانگ میں چینی پالیسیاں اور قوانین دونوں میں بہت سے مسائل موجود ہیں۔ اس لیے چینی حکام کی توجہ اس جانب دلائی جاتی رہی کہ وہ قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے علاوہ اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی شکایات کا بھی جائزہ لیں۔روینہ شامداسانی نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ چین انسانی حقوق کے تحفظ میں ٹھوس پیش رفت کے ساتھ تشدد اور مبینہ قانون کے برعکس اقدامات اور کارروائیوں کا بھی جائزہ لے۔ انہوں نے اس 31 اگست 2022 ء کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سنکیانگ میں انسانیت کے خلاف واقعات کا ذکر بھی کیا۔ یہ رپورٹ انسانی حقوق کے شعبے کی سابق سربراہ مشیل باچلیٹ نے اپنی ریٹائر منٹ سے محض چند منٹ پہلے پیش کی تھی۔تاہم چین نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔ رپورٹ میں امتیاز ی سلوک اور جبری مشقت کے شواہد بھی پیش کیے گئے تھے۔